ریلائنس کی تیزی سے آسمان پر پہنچا شیئر بازار ، سرمایہ کاروں نے کمائے 7 لاکھ کروڑ روپے
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ ریلائنس کے شیئروں میں گزشتہ چھ سال کی سب سے بڑی تیزی اور خام تیل کی قیمتوں میں آئی نرمی کے باعث ہندوستانی شیئر بازار آج مسلسل تیسرے کاروباری دن زبردست تیزی کے ساتھ بند ہونے میں کامیاب رہا۔ بازار میں آج ہر طرف مضبوطی کا ماحو
ریلائنس کی تیزی سے آسمان پر پہنچا شیئر بازار ، سرمایہ کاروں نے کمائے 7 لاکھ کروڑ روپے


نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ ریلائنس کے شیئروں میں گزشتہ چھ سال کی سب سے بڑی تیزی اور خام تیل کی قیمتوں میں آئی نرمی کے باعث ہندوستانی شیئر بازار آج مسلسل تیسرے کاروباری دن زبردست تیزی کے ساتھ بند ہونے میں کامیاب رہا۔ بازار میں آج ہر طرف مضبوطی کا ماحول رہا، جس کے نتیجے میں بڑی کمپنیوں کے شیئروں کے ساتھ ساتھ مڈ کیپ اور اسمال کیپ شیئروں میں بھی زبردست خریداری ہوئی۔ اس وسیع خریداری کے سہارے سینسیکس اور نفٹی دونوں اہم اشاریے دن کی بلند ترین سطح پر بند ہونے میں کامیاب رہے۔ بازار میں زبردست تیزی کے باعث آج سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 7 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

آج کاروبار کے دوران ابتدا ہی سے بازار میں مضبوطی کا ماحول برقرار رہا۔ بڑی کمپنیوں کے شیئروں میں خریداری کے باعث سینسیکس اور نفٹی دونوں اشاریے پورے دن سبز نشان میں رہے۔ دن کے دوسرے سیشن یعنی دوپہر 12 بجے کے بعد منافع وصولی کا دباؤ بھی دیکھنے کو ملا، لیکن کچھ ہی دیر بعد خریداروں نے دوبارہ بڑے پیمانے پر خریداری شروع کر دی، جس سے دونوں اشاریے دن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ دن بھر کے شاندار کاروبار کے بعد سینسیکس 1.66 فیصد اور نفٹی 1.68 فیصد کی زبردست تیزی کے ساتھ بند ہوئے۔

بی ایس ای کا سینسیکس آج 718.71 پوائنٹس یعنی 0.97 فیصد کے اضافے کے ساتھ 75,178.24 پوائنٹس کی سطح پر کھلا۔ کاروبار شروع ہوتے ہی خریداری کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے باعث اس اشاریے نے رفتار پکڑ لی۔ تاہم دوپہر 12 بجے کے بعد منافع وصولی کے سبب فروخت کا دباؤ بھی بنا، جس سے یہ اشاریہ پھسل کر 74,978.12 پوائنٹس کی نچلی سطح تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد ریلائنس اور میٹل سیکٹر کی بڑی کمپنیوں کے شیئروں میں زبردست خریداری شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں سینسیکس نچلی سطح سے 714.66 پوائنٹس اچھل کر مجموعی طور پر 1,233.25 پوائنٹس یعنی 1.66 فیصد کے اضافے کے ساتھ 75,692.78 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

سینسیکس کی طرح این ایس ای کے نفٹی نے بھی آج 169.20 پوائنٹس یعنی 0.73 فیصد کی تیزی کے ساتھ 23,222.30 پوائنٹس کی سطح سے کاروبار کا آغاز کیا۔ بازار کھلنے کے بعد ابتدائی سیشن میں خریداری شروع ہونے سے اس اشاریے میں بھی تیزی آنے لگی۔ تاہم دن کے دوسرے سیشن کے آغاز میں فروخت کا دباؤ بنا، جس کے باعث یہ اشاریہ گر کر 23,207.05 پوائنٹس کی نچلی سطح تک پہنچ گیا۔

اس کے بعد خریدار پوری طرح سرگرم ہو گئے اور بازار میں ہر طرف خریداری شروع کر دی۔ اس خریداری کے سہارے نفٹی نے تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے 23 ستمبر کے بعد پہلی بار 23,400 پوائنٹس کی سطح عبور کی۔ اس طرح دن کی نچلی سطح سے 233.75 پوائنٹس کی شاندار بحالی کرتے ہوئے یہ مجموعی طور پر 387.70 پوائنٹس یعنی 1.68 فیصد کے اضافے کے ساتھ 23,440.80 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

آج دن بھر کے کاروبار میں میٹل سیکٹر کے شیئروں میں سب سے زیادہ چمک دیکھنے کو ملی۔ زبردست خریداری کے باعث نفٹی کا میٹل انڈیکس 3 فیصد سے زیادہ کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ اسی طرح اکتوبر ماہ کے مضبوط فروخت کے اعداد و شمار کے باعث آٹوموبائل سیکٹر بھی خریداروں کی توجہ کا مرکز رہا، جس سے نفٹی آٹو انڈیکس 1.33 فیصد کی مضبوطی درج کرنے میں کامیاب رہا۔

اس کے علاوہ سرکاری بینکوں (پی ایس یو بینک) اور رئیلٹی انڈیکس بھی ایک فیصد سے زیادہ کے اضافے کے ساتھ سبز نشان میں بند ہوئے۔ دوسری جانب آئی ٹی سیکٹر کے شیئروں میں آج فروخت دیکھی گئی، جس کے باعث نفٹی کا آئی ٹی انڈیکس نصف فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ اس کے علاوہ فارما اور پرائیویٹ بینک انڈیکس میں بھی معمولی گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا۔

وسیع تر بازار اور مختلف سیکٹروں کے محاذ پر آج زیادہ تر اشاریے دباؤ سے نکل کر تیزی درج کرنے میں کامیاب رہے۔ گزشتہ کاروباری سیشنوں کے برعکس آج مڈ کیپ اور اسمال کیپ انڈیکس میں بھی اچھی مضبوطی دیکھی گئی۔ نفٹی کا مڈ کیپ 100 انڈیکس آج کاروبار کے اختتام پر 1.19 فیصد کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ اسی طرح اسمال کیپ شیئروں میں بھی خریداروں کی اچھی سرگرمی رہی، جس کے باعث نفٹی کا اسمال کیپ 100 انڈیکس 0.71 فیصد کی تیزی کے ساتھ بند ہوا۔

بازار کے دونوں اہم اشاریوں سینسیکس اور نفٹی کے دن کی بلند ترین سطح پر بند ہونے اور وسیع تر بازار میں ہر طرف خریداری کے باعث آج سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 7 لاکھ کروڑ روپے کا اضافہ درج کیا گیا۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری دن کے اختتام پر 475.35 لاکھ کروڑ روپے تھی، جو آج کاروبار ختم ہونے پر بڑھ کر 482.34 لاکھ کروڑ روپے (عارضی) کی سطح پر پہنچ گئی۔ اس طرح بازار کی اس زبردست چھلانگ کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو آج کے کاروبار سے تقریباً 6.99 لاکھ کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

آج دن بھر کے کاروبار کے دوران بی ایس ای کے ایڈوانس-ڈیکلائن اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بازار میں تیزی کا رجحان پوری طرح غالب رہا۔ مجموعی طور پر 2,889 شیئر اضافے کے ساتھ سبز نشان میں بند ہونے میں کامیاب رہے، جبکہ 1,577 شیئروں کو نقصان اٹھانا پڑا اور وہ سرخ نشان میں بند ہوئے۔ وہیں 226 شیئر بغیر کسی اتار چڑھاؤ کے بند ہوئے۔

اسی طرح این ایس ای میں آج 3,295 شیئروں میں سرگرم کاروبار ہوا۔ ان میں سے 2,259 شیئر منافع کے ساتھ سبز نشان میں اور 1,036 شیئر نقصان کے ساتھ سرخ نشان میں بند ہوئے۔ سینسیکس میں شامل 30 شیئروں میں سے 23 شیئر اضافے کے ساتھ، جبکہ 7 شیئر گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔ وہیں نفٹی میں شامل 50 شیئروں میں سے 35 شیئر سبز نشان میں اور 15 شیئر سرخ نشان میں بند ہوئے۔

آج دن بھر کے شاندار کاروبار کے بعد نیشنل اسٹاک ایکسچینج پر ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کے شیئر 11.60 فیصد کی زبردست تیزی کے ساتھ 1,300 روپے کی قیمت پر بند ہو کر سب سے زیادہ منافع کمانے والوں میں شامل رہے۔ اس کے بعد ٹاٹا اسٹیل 5.83 فیصد کے اضافے کے ساتھ 177.37 روپے، جے ایس ڈبلیو اسٹیل 5.13 فیصد کی تیزی کے ساتھ 1,309.90 روپے، کول انڈیا 4.88 فیصد کے اضافے کے ساتھ 408 روپے اور شری رام فائنانس 4.88 فیصد کی مضبوطی کے ساتھ 863.35 روپے کی سطح پر بند ہوئے۔ یہ آج کے پانچ بڑے سب سے زیادہ منافع کمانے والوں میں شامل رہے۔

دوسری جانب بازار میں زبردست تیزی کے باوجود فروخت کے دباؤ میں پھنسی بڑی آئی ٹی کمپنی انفوسس 2.03 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 1,161 روپے پر بند ہو کر سب سے زیادہ

خسارہ اٹھانے والوں میں شامل رہی۔ اس کے علاوہ آئی سی آئی سی آئی بینک 0.76 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 1,387.40 روپے، کوٹک مہندرا بینک 0.70 فیصد کی کمزوری کے ساتھ 458.35 روپے، ایچ ڈی ایف سی لائف 0.50 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 522.25 روپے اور سن فارما 0.43 فیصد کی کمی کے ساتھ 1,770 روپے کی قیمت پر بند ہوئے۔ یہ آج کے پانچ بڑے خسارہ اٹھانے والوں میں شامل رہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande