
سڈنی، 2 نومبر(ہ س)۔ انگلینڈ کے خلاف رواں ماہ ہونے والی محدود اوورز کی سیریز کے لیے آسٹریلیا نے اپنی ون ڈے اور ٹی20 ٹیموں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوجوان تیز گیند باز مہلی بیئرڈمین، باصلاحیت بلے باز اولی پیک اور آل راؤنڈر جیک ایڈورڈز اور لیام اسکاٹ کو ون ڈے ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔ وہیں نکِل چودھری اور جوئل ڈیوس کو ٹی20 ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز لچلان شا اور سیم ہارپر کو پہلی بار بین الاقوامی کرکٹ میں ڈیبیو کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان تین ون ڈے اور پانچ ٹی20 بین الاقوامی میچوں کی سیریز 13 نومبر سے پرتھ میں شروع ہوگی۔ آسٹریلیا کی سرزمین پر ہونے والی اس سیریز میں آٹھ نئے کھلاڑیوں کو اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ بیئرڈمین، پیک، ایڈورڈز، چودھری، اسکاٹ اور ڈیوس اس سال پاکستان، بنگلہ دیش، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے دوروں پر محدود اوورز کے بین الاقوامی میچوں میں ڈیبیو کر چکے ہیں۔ ہارپر اور شا اب تک بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلے ہیں۔
مچل مارش کی کپتانی میں آسٹریلیا کی محدود اوورز کی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے اہم گروپ کو برقرار رکھا گیا ہے۔ تاہم تیز گیند باز پیٹ کمنز، مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ کو آرام دیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے بعد آسٹریلیائی ٹیم کو دسمبر سے مسلسل 10 ٹیسٹ میچ کھیلنے ہیں۔
کیپ ٹاؤن میں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں شکست کے بعد ٹریوس ہیڈ، میتھیو رینشا، کیمرون گرین، الیکس کیری، جوش انگلس اور کوپر کونولی کو ون ڈے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ کھلاڑی ٹی20 سیریز کا حصہ نہیں ہوں گے۔ آسٹریلیا کو 9 دسمبر سے پرتھ میں نیوزی لینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔ نیوزی لینڈ موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ سائیکل میں سرفہرست ہے۔ آسٹریلیا اپنے ہوم گراؤنڈ پر گزشتہ پانچ میں سے تین ٹیسٹ میچ ہارنے کے بعد واپسی کی کوشش کرے گا۔ اس کے بعد ٹیم ہندوستان کے دورے پر پانچ ٹیسٹ میچوں کی بارڈر-گواسکر ٹرافی کھیلے گی۔ مارچ میں ملبورن میں ٹیسٹ کرکٹ کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ایک خصوصی مقابلہ بھی منعقد ہوگا۔
مہلی بیئرڈمین نے گزشتہ سال جنوری میں لاہور میں بین الاقوامی ڈیبیو کیا تھا، لیکن سیریز کے دوسرے میچ سے قبل پریکٹس کے دوران انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جانچ میں ان کی کمر میں اسٹریس فریکچر کا پتہ چلا، جس کے باعث ان کا گزشتہ سیزن متاثر ہوا۔ چوٹ سے صحت یاب ہونے کے بعد انہوں نے اکتوبر میں ہندوستان کے دورے پر آسٹریلیا اے کی جانب سے محدود اوورز کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پڈوچیری میں ایک میچ کے دوران انہوں نے چھ اوورز میں 23 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلیا کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین جارج بیلی نے کرکٹ آسٹریلیا کے حوالے سے کہا کہ بیئرڈمین ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہیں آنے والے برسوں میں تینوں فارمیٹس کا کھلاڑی بنانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’آسٹریلیا اے کے لیے مہلی بیئرڈمین کی حالیہ کارکردگی متاثر کن رہی ہے۔ ون ڈے اور ٹی20 دونوں فارمیٹس میں قومی ٹیم میں ان کی واپسی کو لے کر ہم بے حد پرجوش ہیں۔‘‘
اولی پیک اور جیک ایڈورڈز نے بالترتیب راولپنڈی اور ڈربن میں ون ڈے ڈیبیو کیا تھا۔ بیئرڈمین اور ایڈورڈز نے لاہور میں ٹی-20 بین الاقوامی ڈیبیو کیا، جبکہ چودھری اور ڈیوس نے چٹاگانگ میں اس فارمیٹ میں اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ کھیلا۔
پیک نے زمبابوے کے دورے کے دوران مڈل آرڈر میں بلے بازی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے ایک میچ کے آخری اوور میں 24 رن بنائے تھے۔ وہیں ایڈورڈز نے جوہانسبرگ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کرکے اپنی گیند بازی کی صلاحیت ثابت کی تھی۔ٹی20 ٹیم میں جیک فریزر-میک گرک کی 18 ماہ بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی ہوئی ہے۔ مچ اوون کو بھی ٹیم میں جگہ دی گئی ہے۔ جارج بیلی نے دونوں کھلاڑیوں کی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا، ’’جیک اور مچ ٹی20 ٹیم میں واپسی کر رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ بڑے شاٹس کھیلنے کی ان کی صلاحیت مختصر فارمیٹس میں ٹیم کے لیے فرق پیدا کر سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یہ دونوں ایسے کھلاڑیوں کی بہترین مثال ہیں جنہیں بین الاقوامی سطح پر موقع ملا اور انہوں نے ان تجربات سے سیکھ کر اپنے کھیل پر مسلسل کام کیا ہے۔‘‘
جوش انگلش نے کیپ ٹاؤن میں تیسرے ٹیسٹ میچ میں سنچری بنائی تھی اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ ٹیم میں جگہ پانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں ٹی20 سیریز سے آرام دیا گیا ہے۔ اس سے پہلی بار بین الاقوامی ڈیبیو کی دہلیز پر کھڑے وکٹ کیپر بلے باز لچلان شا اور سیم ہارپر کے لیے موقع پیدا ہوا ہے۔
شا کو اس سیزن میں نیو ساؤتھ ویلز کی ون ڈے کپ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا۔ نک میڈنسن کی غیر موجودگی میں انہوں نے شیفیلڈ شیلڈ ٹیم کی بھی قیادت کی۔ آسٹریلیا اے کے لیے بھی ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔ وہیں ہارپر گزشتہ سیزن میں بگ بیش لیگ کے بہترین کھلاڑی منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے دورے پر ٹیسٹ ٹیم میں بھی جگہ بنائی تھی، حالانکہ انہیں کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔
تیز گیند باز نیتھن ایلس جنوبی افریقہ کے خلاف ستمبر کے آخری ہفتے میں دوسرے ون ڈے کے دوران لگی پسلیوں کے پٹھوں کی چوٹ سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ون ڈے سیریز سے باہر ہیں، لیکن ٹی-20 سیریز میں واپسی کریں گے۔ وہیں میٹ شارٹ کو اس سال محدود اوورز کی ٹیم میں جگہ نہیں ملی ہے۔ کولہے کی سرجری کے بعد وہ اگلے پانچ ہفتوں تک میدان سے باہر رہیں گے۔
آسٹریلیا کی ون ڈے ٹیم
مچل مارش (کپتان)، زیویئر بارٹلیٹ، مہلی بیئرڈمین، الیکس کیری، کوپر کونولی، جیک ایڈورڈز، کیمرون گرین، ٹریوس ہیڈ، جوش انگلش، اسپینسر جانسن، اولی پیک، میتھیو رینشا، لیام اسکاٹ اور ایڈم زمپا۔
آسٹریلیا کی ٹی-20 ٹیم
مچل مارش (کپتان)، زیویئر بارٹلیٹ، مہلی بیئرڈمین، نکِل چودھری، ٹم ڈیوڈ، جوئل ڈیوس، جیک ایڈورڈز، نیتھن ایلس، جیک فریزر-میک گرک، سیم ہارپر، اسپینسر جانسن، مچ اوون، لچلان شا اور ایڈم زمپا۔
آسٹریلیا-انگلینڈ ون ڈے سیریز کا شیڈول
پہلا ون ڈے: 13 نومبر، پرتھ اسٹیڈیم، دوپہر 2:30 بجے (مقامی وقت)
دوسرا ون ڈے: 15 نومبر، ایڈیلیڈ اوول، دوپہر 2:30 بجے
تیسرا ون ڈے: 18 نومبر، بیلریو اوول، ہوبارٹ، دوپہر 2:30 بجے
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan