
نئی دہلی، 2 نومبر (ہ س)۔ مانسون کے بعد کوئلہ کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ مالی سال 27-2026 کے اکتوبر کے مہینے میں کیپٹیو اور کمرشیل کوئلے کی کانوں سے پیداوار 22.03 ملین ٹن (ایم ٹی) درج کی گئی، جو اکتوبر 2025 میں درج 15.49 ملین ٹن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر پیداوار میں 42 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اسی مدت کے دوران کوئلے کی سپلائی بھی سالانہ بنیاد پر 36 فیصد بڑھ کر 21.11 ملین ٹن ہوگئی، جو اکتوبر 2025 کے 15.48 ملین ٹن سے زیادہ ہے ۔
وزارت کے مطابق اس شعبے میں سالانہ بنیاد پر نمایاں ترقی درج کی گئی ہے۔ گزشتہ سال اپریل سے اکتوبر کی مدت کے مقابلے میں کوئلے کی پیداوار سالانہ بنیا د پر 11.30 فیصد کے اضافے کے ساتھ 117.23 ملین ٹن ہوگئی، جو پہلے 105.33 ملین ٹن تھی۔ اسی طرح کوئلے کی سپلائی 111.95 ملین ٹن سے بڑھ کر 124.86 ملین ٹن ہوگئی، جس میں 11.53 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار کان کنی کی سرگرمیوں میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
کوئلہ وزارت نے بتایا کہ اس شعبے کو فروغ دینے کے لیے جھارکھنڈ کی لوہاری کوئلہ کان کو اکتوبر میں کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ کان کئی برسوں سے شروع ہونے کی منتظر تھی۔ اس کے ساتھ ہی فعال کیپٹیو اور کمرشیل کوئلے کی کانوں کی تعداد بڑھ کر 87 ہوگئی ہے۔ ان کانوں سے پیداوار میں اضافہ درآمد شدہ کوئلے پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ کی بچت میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ صنعتی ترقی کے لیے ضروری خام مال کے معاملے میں خود کفالت کو فروغ ملے گا اور حکومت کے ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستھان سماچار / محمد شہزاد