گنگا میں ڈولفن کی کم ہوتی تعداد تشویش کا باعث، افزائشِ نسل میں بھی کمی
بھاگلپور، 6 اکتوبر (ہ س): گنگا کی لہروں میں اچانک اچھلتی اور پھر پانی کی گہرائی میں غائب ہوجاتی ڈولفن سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں، لیکن ماہرین کے لیے ان کی گھٹتی افزائش تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بھاگلپور کے سلطان گنج سے کہل گاؤں تک تق
گنگائی ڈولفن


بھاگلپور، 6 اکتوبر (ہ س): گنگا کی لہروں میں اچانک اچھلتی اور پھر پانی کی گہرائی میں غائب ہوجاتی ڈولفن سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کرتی ہیں، لیکن ماہرین کے لیے ان کی گھٹتی افزائش تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بھاگلپور کے سلطان گنج سے کہل گاؤں تک تقریباً 60 کلومیٹر کے علاقے میں واقع وِکرم شلا گنگا ڈولفن پناہ گاہ ملک میں اپنی نوعیت کی واحد پناہ گاہ ہے۔

محکمۂ جنگلات کی تازہ نگرانی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں ڈولفنوں کی تعداد تقریباً 200 کے آس پاس برقرار ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ استحکام اطمینان بخش نہیں۔ بالغ نر ڈولفنوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ نئے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا۔

ماہرین کے مطابق اگر ڈولفن کی نئی نسل میں اضافہ نہ ہوا تو موجودہ آبادی کے عمر رسیدہ ہونے کے بعد ان کی تعداد میں اچانک نمایاں کمی آسکتی ہے۔

معروف ڈولفن ماہر اور ماحولیات کے ماہر ڈاکٹر سنیل چودھری کے مطابق نر ڈولفنوں کی کمی ان کے افزائشی عمل کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈولفن انتہائی حساس جاندار ہیں اور ان کی بقا کے لیے پرسکون اور محفوظ آبی ماحول ضروری ہے۔ آلودگی، شور اور دیگر عوامل ان کی افزائش اور بچوں کی بقا پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

ماہی گیروں کے زیرِ استعمال ممنوعہ نائیلون کے ’کرنٹ جال‘ بھی ڈولفنوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ان جالوں میں پھنس کر ڈولفن سانس نہ لے پانے کے باعث ہلاک ہوجاتی ہیں۔ دوسری جانب تجارتی جہازوں اور بڑی موٹر کشتیوں کی بڑھتی آمدورفت سے پانی کے اندر شور بھی بڑھ رہا ہے۔

ڈولفن اپنی سمت معلوم کرنے اور شکار تلاش کرنے کے لیے ایکو لوکیشن کا استعمال کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پانی کے اندر بڑھتا شور ان کے اس قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے اور انہیں دباؤ، الجھن اور سمت کی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خطرے کے پیشِ نظر محکمۂ جنگلات اور مقامی رضاکار تنظیموں نے بیداری مہم تیز کردی ہے۔ دریا کنارے کے دیہات اور ماہی گیر بستیوں میں بیداری اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں، جبکہ مقامی نوجوانوں کو ’ڈولفن دوست‘ کے طور پر تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ غیر قانونی شکار اور خطرناک جالوں کے استعمال پر نظر رکھ سکیں۔

ماہی گیروں کو ڈولفن کے تحفظ کی اہمیت سمجھاتے ہوئے روایتی سوتی جال استعمال کرنے کی ترغیب بھی دی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈولفن گنگا کی صحت کی اہم علامت ہیں؛ ان کا تحفظ دریا کے ماحولیاتی نظام اور مچھلیوں کی افزائش کے لیے بھی ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف بیداری مہم کافی نہیں۔ گنگا میں پانی کی مناسب سطح برقرار رکھنے، گاد کی صفائی اور آبی شور پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں گنگا میں ڈولفن کی یہ دلکش اٹھکھیلیاں صرف کتابوں اور ویڈیوز میں ہی دیکھ سکیں گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande