بدلتی طرز زندگی، ذہنی دباؤ اورغیر صحت بخش خوراک نوجوانوں میں دل کے امراض کا سبب بن رہی ہے : ڈاکٹر سشیل
جموں, 5 اکتوبر (ہ س): جموں و کشمیر میں نوجوانوں اور بظاہر صحت مند افراد میں بھی دل کے امراض کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بدلتی طرز زندگی، ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ یہ بات جی ایم سی ایچ جموں
Heart


جموں, 5 اکتوبر (ہ س): جموں و کشمیر میں نوجوانوں اور بظاہر صحت مند افراد میں بھی دل کے امراض کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بدلتی طرز زندگی، ذہنی دباؤ، غیر صحت بخش خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

یہ بات جی ایم سی ایچ جموں کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر سشیل کمار شرما نے گنگیال کے ماڈل ٹاؤن میں گوردوارہ سنگھ سبھا میں منعقدہ ایک روزہ طبی کیمپ کے دوران کہی۔

ڈاکٹر سشیل نے کہا کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنا، ورزش کی کمی، ڈیجیٹل آلات کا زیادہ استعمال، تمباکو نوشی، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول میں اضافہ، نیند کی خرابی اور مسلسل ذہنی دباؤ دل کے امراض کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ سینے میں درد یا دباؤ، سانس پھولنا، غیر معمولی تھکن، دل کی دھڑکن کا تیز یا بے ترتیب ہونا، ٹھنڈا پسینہ، متلی اور درد کا بازو، کمر، گردن یا جبڑے تک پھیلنا ہارٹ اٹیک کی علامات ہو سکتی ہیں۔

ان علامات کو صرف گیس، تھکن یا ذہنی دباؤ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طبی

امداد حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے دل کو صحت مند رکھنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند، تمباکو سے پرہیز اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے پر زور دیا۔

ڈاکٹر سشیل نے دل کے امراض کے خطرے سے دوچار افراد اور خاندانی تاریخ رکھنے والوں کو وقتاً فوقتاً بلڈ پریشر، بلڈ شوگر اور کولیسٹرول کی جانچ کروانے کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ دل کے امراض سے بچاؤ کے لیے عوامی سطح پر آگاہی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande