اکشر پٹیل کے زخمی ہونے پر ورلڈ کپ ٹیم میں شامل ہوں گے جڈیجہ: ابھیشیک نائر
نئی دہلی، 31 اکتوبر (ہ س): ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ بھلے ہی نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل نہیں ہیں، لیکن 2027 کے ورلڈ کپ کے منصوبوں میں ان کا کردار پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ سابق ہندوستانی بیٹنگ ک
اکشر پٹیل کے زخمی ہونے پر ورلڈ کپ ٹیم میں شامل ہوں گے جڈیجہ: ابھیشیک نائر


نئی دہلی، 31 اکتوبر (ہ س): ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ بھلے ہی نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل نہیں ہیں، لیکن 2027 کے ورلڈ کپ کے منصوبوں میں ان کا کردار پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔ سابق ہندوستانی بیٹنگ کوچ ابھیشیک نائر کا ماننا ہے کہ جڈیجہ اب بھی ہندوستانی ٹیم کے لیے ایک طرح کی ’انشورنس پالیسی‘ ہیں۔ اگر ورلڈ کپ سے پہلے اکشر پٹیل زخمی ہوتے ہیں تو جڈیجہ کی ٹیم میں واپسی ہوسکتی ہے۔

جیو ہاٹ اسٹار کے پروگرام ’آؤٹ آر ناٹ آؤٹ‘ میں جیو اسٹار کے ماہرین ابھیشیک نائر اور چتیشور پجارا نے ہندوستانی ون ڈے ٹیم میں جڈیجہ کے مستقبل، کلدیپ یادو کو مستقل مواقع نہ ملنے اور بڑے ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے ٹیم میں پانچ ماہر گیند بازوں کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

نائر نے جڈیجہ کی واپسی کے امکانات پر کہا، ’’ممکن ہے کہ جڈیجہ کی ٹیم میں واپسی نہ ہو، لیکن اگر کوئی کھلاڑی زخمی ہوتا ہے تو سب سے پہلے انہی کا نام ذہن میں آئے گا۔ اکشر پٹیل کے بعد فی الحال کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ ابھی اکشر اس کردار کے لیے سب سے آگے ہیں اور ان کے بعد جڈیجہ آپ کی انشورنس پالیسی ہیں۔ اگر ورلڈ کپ سے پہلے اکشر پٹیل کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو رویندر جڈیجہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔‘‘

وہیں، چتیشور پجارا کا ماننا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز سے جڈیجہ کو باہر رکھنا اس فارمیٹ میں ان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اشارہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکشر پٹیل کو ون ڈے کرکٹ میں اہم آل راؤنڈر کے طور پر زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ ٹیم مینجمنٹ نے جڈیجہ کو ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہا ہو اور انہیں وائٹ بال کرکٹ کے منصوبوں میں شامل نہیں کیا جا رہا ہو۔ جڈیجہ پہلے ہی ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ ایسے میں ون ڈے ٹیم میں ان کی واپسی مشکل ہوسکتی ہے۔

کلدیپ یادو کو ون ڈے ٹیم میں مستقل جگہ نہ ملنے پر پجارا نے کہا کہ اس فارمیٹ میں، خاص طور پر بیرون ملک کے حالات میں، ٹیم کے لیے بلے بازی میں گہرائی ہونا ضروری ہے۔ ٹیم کے امتزاج میں ساتویں نمبر پر آل راؤنڈر اور آٹھویں نمبر پر ایسے گیند باز کی ضرورت ہوتی ہے جو کچھ بلے بازی بھی کرسکے۔ کلدیپ بہترین گیند باز ہیں، لیکن ان کی بلے بازی اس معیار کی نہیں ہے۔ اسی لیے ہندوستانی ٹیم آٹھویں نمبر پر بلے بازی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے کھلاڑی کو ترجیح دیتی ہے۔

نائر نے کہا کہ ٹی20 کرکٹ میں جارحانہ کھیل کی وجہ سے بلے بازی میں گہرائی ضروری ہے، لیکن ون ڈے کرکٹ میں ٹیم کے پاس حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا وقت ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ٹیم وکٹیں حاصل نہیں کر پاتی تو طویل بیٹنگ آرڈر بھی چیمپئن شپ جتوانے میں شاید ہی مددگار ثابت ہو۔ ساتویں یا آٹھویں نمبر کے بلے باز کی بدولت بہت کم ٹیمیں خطاب جیتتی ہیں، لیکن پانچواں گیند باز کئی بار ٹیم کو چیمپئن بنا سکتا ہے۔

انہوں نے گزشتہ ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کی وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن ثابت ہوئی تھی۔ آسٹریلیائی گیند بازوں نے ہندوستان کو محدود اسکور پر روک دیا اور پھر ٹیم نے خطاب جیت لیا۔ نائر کے مطابق، ون ڈے کرکٹ میں بڑے ٹورنامنٹ گیند باز ہی جتاتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande