
نئی دہلی/کولکاتا، 31 اکتوبر(ہ س)۔ بھارتی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (سیبی)کے چیئرمین توہن کانت پانڈے نے ہفتہ کو کہا کہ بازار کا نگران ادارہ ٹاٹا گروپ کی اصل کمپنی کی سطح پر انتظامی اور نگرانی کے نظام سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ توہن کانت پانڈے نے کولکاتا میں ’بھارت چیمبر آف کامرس‘ کی 125ویں سالگرہ کی تقریب اور انویسٹر فورم کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ پروگرام ’بلڈنگ انڈیا‘ز ورلڈ کلاس کیپٹل مارکیٹ‘ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹاٹا گروپ کی فہرست میں شامل کمپنیاں اور ان کے پروموٹرز بھی سیبی کے انکشافات اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق قواعد کے دائرے میں آتے ہیں۔
سیبی چیئرمین کا یہ بیان ٹاٹا گروپ کی اصل کمپنی ٹاٹا سنز میں انتظامی اور نگرانی کے نظام سے متعلق اختلافات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ ان معاملات میں این چندر شیکھرن کی چیئرمین کے طور پر دوبارہ تقرری اور کمپنی کو شیئر بازار میں درج کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ پانڈے نے اپنے خطاب میں سرمایہ جمع کرنے کے عمل کو آسان بنانے پر بھی خصوصی زور دیا۔بھارت چیمبر انویسٹرز فورم کے آغاز کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل کمپنی کی سطح پر کچھ معاملات ہیں، حالانکہ وہ خود اسٹاک ایکسچینج میں درج نہیں ہے۔ گروپ کی دیگر درج شدہ کمپنیاں ایل او ڈی آر (لسٹنگ آبلیگیشنز اینڈ ڈسکلوزر ریکوائرمنٹس) کے تمام ضابطوں پر عمل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں اور ان کے پروموٹرز پر سیبی کے تمام متعلقہ قواعد لاگو ہوتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سیبی ٹاٹا گروپ سے وابستہ معاملات پر نظر رکھ رہا ہے تو انہوں نے کہا کہ تمام پیش رفت کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹاٹا گروپ کی مالی سال 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق گروپ کی 26 کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں درج ہیں۔ 31 مارچ 2025 تک ان تمام کمپنیوں کی مشترکہ مارکیٹ قدر 328 ارب امریکی ڈالر تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan