گیل نے دوسری سہ ماہی میں 4,650 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا
نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہ س)۔ سرکاری شعبے کی گیس کمپنی گیل (انڈیا) لمیٹڈ نے مالی سال 2026تا2027 کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے مالی نتائج جاری کر دیے ہیں۔ اس دوران کمپنی کا منافع 110 فیصد بڑھ کر 4,650 کروڑ روپے ہو گیا، جبکہ آمدنی میں 30 فیصد سے
گیل


نئی دہلی، 30 اکتوبر (ہ س)۔ سرکاری شعبے کی گیس کمپنی گیل (انڈیا) لمیٹڈ نے مالی سال 2026تا2027 کی دوسری سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے مالی نتائج جاری کر دیے ہیں۔ اس دوران کمپنی کا منافع 110 فیصد بڑھ کر 4,650 کروڑ روپے ہو گیا، جبکہ آمدنی میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔ کمپنی نے گیل گیس کے ابتدائی عوامی ایشو (آئی پی او) کو بھی اصولی منظوری دے دی ہے۔

کمپنی نے جمعہ کو اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ دوسری سہ ماہی میں اس کا خالص منافع دوگنے سے بھی زیادہ بڑھ کر 4,650 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں کمپنی نے 2,217 کروڑ روپے کا منافع کمایا تھا۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر کمپنی کے منافع میں تقریباً 110 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گیل کے مطابق، جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی کے دوران کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ بنیاد پر 30 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 45,924 کروڑ روپے ہو گئی۔ تاہم، اس عرصے میں کمپنی کے اخراجات میں بھی 23 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ قدرتی گیس کی خرید و فروخت کے کاروبار میں مضبوط ترقی سے منافع میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ گیل گیس کے آئی پی او کے لیے بھی اصولی منظوری مل گئی ہے۔

گیل (انڈیا) لمیٹڈ کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر دیپک گپتا نے کہا کہ اس مشکل دور میں بھی ہماری ٹیموں نے غیر معمولی حوصلے، لچک اور مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی بدولت تمام مشکلات کے باوجود کمپنی کا کام کاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح صارفین کی ضروریات پوری کرنا اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے کام کاج کی کارکردگی بہتر بنانے، کاروبار کو مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے اور تمام متعلقہ فریقوں کے لیے طویل مدتی فوائد پیدا کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گیل ملک کی سب سے بڑی قدرتی گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے۔ اس کے کاروبار میں قدرتی گیس کی خرید و فروخت، پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی فراہمی اور پیٹروکیمیکل مصنوعات شامل ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande