
آئیچی-ناگویا، 3 اکتوبر (ہ س)۔ بھارت کے تجربہ کار پہلوان دیپک پونیا نے ہفتہ کو ایشین گیمز 2026 میں مردوں کے 97 کلوگرام فری اسٹائل زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیت کر تاریخ رقم کردی۔ دیپک نے کانسہ کے تمغے کے مقابلے میں منگولیا کے گنکھویگ گنباتار کو 2-1 سے شکست دی۔ اس کامیابی کے ساتھ انہوں نے اس وزن کے زمرے میں ایشین گیمز میں بھارت کو 60 سال بعد تمغہ دلایا۔دیپک نے مقابلے کے ابتدائی مرحلے میں دو پوائنٹس حاصل کرکے برتری بنائی۔ دوسرے مرحلے میں منگولیا کے پہلوان نے ایک پوائنٹ حاصل کرکے واپسی کی کوشش کی، لیکن دیپک نے آخری لمحات میں شاندار دفاعی کشتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی برتری برقرار رکھی اور مقابلہ 2-1 سے اپنے نام کرلیا۔
مقابلے کے آخری مرحلے میں دونوں پہلوان طویل وقت تک برابری کی پوزیشن میں رہے۔ ریفری نے دونوں کی غیر فعال کارکردگی پر وارننگ دی، جس کے نتیجے میں دیپک کو ایک پیسیویٹی پوائنٹ گنوانا پڑا۔ اس کے بعد گنکھویگ نے کچھ جارحانہ کوششیں کیں، لیکن دیپک نے خود کو محفوظ رکھا اور آخری 30 سیکنڈ میں اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے کانسہ کا تمغہ یقینی بنا لیا۔
دیپک کا کانسہ کا تمغہ اس وزن کے زمرے میں ایشین گیمز میں بھارت کا 60 سال بعد حاصل کیا گیا تمغہ ہے۔ اس سے قبل بھارت نے 97 کلوگرام فری اسٹائل میں 1962 اور 1966 کے ایشین گیمز میں تمغے جیتے تھے۔ اس طرح بھارت کے لیے اس زمرے میں اب تک پانچ تمغے ہوچکے ہیں۔1962 میں ماروتی مانے نے سونا اور گنپت آندلکر نے چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ 1966 میں وشوناتھ سنگھ نے چاندی اور بھیم سنگھ نے کانسہ کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ دیپک کے کانسہ کے ساتھ بھارت نے اس زمرے میں اپنا پانچواں ایشین گیمز تمغہ جیت لیا۔
دیپک پونیا کا یہ ایشین گیمز میں مسلسل دوسرا تمغہ ہے۔ ہانگژو ایشین گیمز میں انہوں نے 86 کلوگرام فری اسٹائل زمرے میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ اس بار انہوں نے 97 کلوگرام زمرے میں حصہ لیتے ہوئے کانسہ کا تمغہ اپنے نام کیا۔گنکھویگ گنباتار نے ہانگژو ایشین گیمز میں 97 کلوگرام زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیتا تھا۔ اس بار وہ دیپک کے خلاف کانسی کے تمغے کے مقابلے میں شکست کھا گئے۔
19 مئی 1999 کو ہریانہ کے جھجر میں پیدا ہونے والے دیپک پونیا نے محض پانچ سال کی عمر میں چھارا گاؤں کے مٹی کے اکھاڑے سے کشتی کا آغاز کیا۔ سابق پہلوان ویریندر سنگھ نے انہیں ابتدائی تربیت دی۔ ان کے والد سبھاش پونیا بھی سابق پہلوان اور ڈیری کسان رہے ہیں۔ کشتی سے وابستہ خاندان میں پرورش پانے والے دیپک نے مقامی دنگلوں میں حصہ لے کر اپنی تکنیک کو نکھارا اور خاندان کی مدد میں بھی تعاون کیا۔اسکول سطح کی قومی مقابلے میں ان کی صلاحیت سامنے آنے کے بعد انہیں دہلی کے معروف چھترسال اسٹیڈیم میں تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ روایتی مٹی کے اکھاڑے سے بین الاقوامی میٹ تک کا سفر آسان نہیں تھا، لیکن دیپک نے اپنی محنت اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت قائم کی۔
2021 کے ٹوکیو اولمپکس میں دیپک تمغہ جیتنے سے محروم رہے اور پانچویں مقام پر رہے۔ امریکہ کے پہلوان کے خلاف شکست نے انہیں مایوس کیا، لیکن اس کے بعد انہوں نے شاندار واپسی کی۔ ہانگژو ایشین گیمز میں انہوں نے 86 کلوگرام زمرے کے فائنل تک رسائی حاصل کرکے چاندی کا تمغہ جیتا۔دیپک نے 2022 کے دولت مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ بھی جیتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 2021، 2022 اور 2025 کی سینئر ایشین چمپئن شپ میں چاندی کے تمغے، جبکہ 2019 اور 2020 کی سینئر ایشین چمپئن شپ میں کانسہ کے تمغے جیت چکے ہیں۔ 2019 کی عالمی چمپئن شپ میں بھی انہوں نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔دیپک فی الحال دہلی کے چھترسال اسٹیڈیم میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ 97 کلوگرام زمرے میں تاریخی کانسی کے تمغے کے ساتھ انہوں نے ایشین گیمز میں مسلسل دوسری بار تمغہ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan