
نئی دہلی، 28 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز ٹاٹا معاملے پر راہل گاندھی کے تبصرے کو لے کر ان پر نشانہ سادھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس کے لیڈر کاروباری دنیا کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر بے اعتمادی اور منفی سوچ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سیتارمن نے ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں حکومت پر ٹاٹا گروپ کو ’مجرمانہ طریقے سے برباد‘ کرنے کے الزامات لگائے جانے کے بعد راہل گاندھی پر سخت جوابی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو ہر معاملے پر سیاست کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی۔ وزیر خزانہ نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی کو مشورہ دیا کہ وہ ہر معاملے کو سیاسی رنگ دینا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ خالصتاً کاروباری اور قانونی معاملات کو ’مجرمانہ‘ قرار دینا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ جاری کر کے دعویٰ کیا تھا کہ ٹاٹا کو مجرمانہ طریقے سے تباہ کیا جا رہا ہے اور ملک کے کاروباری لیڈران اس پر بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی صنعت و حرفت کی دنیا وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے ہاتھ کا کھلونا نہیں ہے۔
واضح رہے کہ یہ سیاسی تنازعہ ٹاٹا سنز کی قیادت کو لے کر پیدا ہونے والے اندرونی اختلافات کے بعد شروع ہوا ہے۔ حال ہی میں ٹاٹا ٹرسٹ کے چیئرمین نوئل ٹاٹا نے ٹاٹا سنز کے بورڈ کی جانب سے این چندرشیکھرن کو دوبارہ ایگزیکٹو چیئرمین مقرر کیے جانے کی تجویز کو چیلنج کیا ہے۔ اس تمام قانونی اور کارپوریٹ عمل کو راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے جوڑتے ہوئے بیانات جاری کیے تھے، جس پر مرکزی حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ نے یہ سخت ردعمل دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن