
نئی دہلی، 28 اکتوبر(ہ س)۔ بھارت اور میکسیکو نے دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے مقصد سے ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) کےلئے بدھ کے روز باضابطہ مذاکرات شروع کر دیے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے ’ٹرمز آف ریفرنس‘ (ٹی او آر) پر دستخط کیے۔
بھارت کے سکریٹری تجارت راجیش اگروال اور میکسیکو کے نائب وزیر برائے خارجہ تجارت لوئس روسینڈو گوتیریز رومانو نے مشترکہ طور پر مذاکرات کا آغاز کیا۔ اس موقع پر مجوزہ معاہدے کی وسیع تر شکل طے کی گئی، جس میں اشیا کے لیے منڈی تک رسائی، کسٹم کے طریقہ کار، تجارتی سہولت، تنازعات کا حل، صحت عامہ اور پودوں کی صحت سے متعلق اقدامات، تجارت میں تکنیکی رکاوٹیں اور تجارتی تحفظ کے اقدامات جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ان نکات کے ذریعے مذاکرات کا دائرہ، طریقہ کار اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا ہے، تاکہ دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
وزارت تجارت کے مطابق، اس پیش رفت کے ساتھ ہی باہمی فائدے اور توازن پر مبنی ترجیحی تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات باضابطہ طور پر شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی ویلیو چین سے مضبوط روابط کے باعث میکسیکو بھارتی برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم بازار ہے۔دونوں ممالک کے درمیان گاڑیوں، کیمیکلز، الیکٹرانکس، ادویات، زرعی اور غذائی مصنوعات، توانائی، اہم معدنیات، طبی آلات اور جدید مینوفیکچرنگ سمیت کئی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ دونوں فریقوں نے 2027 کی پہلی سہ ماہی میں میکسیکو کے ایک تجارتی وفد کے بھارت دورے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں بھارت اور میکسیکو کے درمیان دوطرفہ تجارت 9.11 فیصد کم ہو کر 7.83 ارب امریکی ڈالر رہ گئی، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ 8.61 ارب امریکی ڈالر تھی۔مالی سال 2025-26 کے دوران بھارت نے میکسیکو کو 5.72 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ میکسیکو سے 2.1 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ اس طرح بھارت کو 3.62 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل ہوا، جو مالی سال 2024-25 میں 2.9 ارب ڈالر تھا۔ترجیحی تجارتی معاہدے کے لیے شروع ہونے والے مذاکرات سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستھان سماچار / Mohammad Khan