
لندن، 27 اکتوبر (ہ س)۔ انگلینڈ کے کپتان اور بائرن میونخ کے اسٹار اسٹرائیکر ہیری کین نے فٹبال کا باوقار ’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ وہ 25 سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگلش کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس سے قبل 2001 میں مائیکل اوون نے یہ ایوارڈ جیتا تھا۔ پیر کے روز لندن کے پیلیڈیم تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں 33 سالہ کین کو یہ اعزاز پیش کیا گیا۔
کین نے گزشتہ سیزن میں کلب اور ملک کے لیے مجموعی طور پر 73 گول کیے۔ بائرن میونخ کے ساتھ انہوں نے بنڈس لیگا اور جرمن کپ کا خطاب جیتا، جبکہ انگلینڈ کو فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایوارڈ کی دوڑ میں انہوں نے فرانس کے کلیان ایمباپے اور اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یامال کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ایوارڈ ملنے کے بعد کین جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا، ”واہ، میرے پاس کہنے کے لیے تقریباً الفاظ نہیں ہیں۔ فرانس فٹبال اور بیلن ڈی اور کا اس شاندار تقریب کے انعقاد کے لیے شکریہ۔ لندن میں یہ اعزاز ملنا اسے مزید خاص بناتا ہے۔ آج کا دن میرے لیے نیک شگون جیسا رہا۔“
انہوں نے ایوارڈ کے لیے ووٹ کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سال مقابلہ انتہائی سخت تھا، کیونکہ ان کے سامنے کئی غیر معمولی کھلاڑی تھے۔ کین نے تمام فاتحین اور نامزد کھلاڑیوں کو مبارکباد بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ظاہر کرتا ہے کہ پختہ عزم اور سخت محنت سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے۔
کین نے اپنی کامیابی کا سہرا بائرن میونخ کے ساتھیوں اور کوچ ونسنٹ کمپنی کے سر باندھا۔ انہوں نے کہا کہ پریکٹس کے دوران ٹیم کے کھلاڑی انہیں بہتر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کمپنی کے اسپتال میں ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے ان کی جلد صحت یابی کی تمنا کی اور کہا کہ امید ہے، اس کامیابی سے انہیں کچھ توانائی ملے گی۔
انگلینڈ کی ٹیم کے حوالے سے کین نے کہا کہ پچھلا سال پوری طرح سے بے عیب نہیں تھا، لیکن کھلاڑیوں کے درمیان شاندار تال میل اور یکجہتی رہی۔ انہوں نے ٹیم کی کپتانی کو اپنے لیے باعثِ فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ ایوارڈ ان کے تمام ساتھیوں کے نام بھی ہے۔
کین نے ٹوٹنہیم ہاٹ اسپر کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ وہ 11 سال کی عمر میں کلب کی اکیڈمی سے وابستہ ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلب کے کوچوں اور رہنماوں نے ان کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے مختلف مراحل پر ساتھ دینے والے کوچز اور رہنماوں کے تعاون کو بھی یاد کیا۔
اپنے جذباتی خطاب میں کین نے اہلیہ کیٹ کو اپنا سب سے بڑا حامی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے کیریئر میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں اور کیٹ نے ہمیشہ ان کے خوابوں کو پورا کرنے میں تعاون کیا ہے۔
کین نے کہا، ”مجھے لگا کہ آپ یہ ٹرافی مجھ سے بھی زیادہ چاہتی تھیں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے آپ نے کئی قربانیاں دیں۔ یہ صرف میری ٹرافی نہیں ہے، بلکہ ہم دونوں کی ہے۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور اس کامیابی کا جشن منانے کے لیے پرجوش ہوں۔“
انہوں نے اپنے بچوں آئیوی، ویوین، لوئی اور ہینری کا بھی تذکرہ کیا۔ مسکراتے ہوئے کہا کہ تقریب کافی دیر تک چلی اور بچوں کے سونے کا وقت ہو چکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے محنت کرنے، خود پر بھروسہ رکھنے اور ایک اچھا باپ نیز پیشہ ور کھلاڑی بننے کی مثال قائم کرنا چاہتے ہیں۔
اپنے پرمشقت سفر کو یاد کرتے ہوئے کین نے کہا کہ وہ براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر نہیں پہنچے۔ انہیں کئی بار دوسرے کلبوں میں لون پر جانا پڑا اور اپنی جگہ بنانے کے لیے مسلسل محنت کرنی پڑی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی کہانی نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے خوابوں کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستھان سماچار / انظر حسن