اڈانی احمد آباد میراتھن میں چار سابق فوجی دوڑ کر جوانوں کے حوصلے کا پیغام دیں گے
اڈانی احمد آباد میراتھن میں چار سابق فوجی دوڑ کر جوانوں کے حوصلے کا پیغام دیں گے احمد آباد، 27 اکتوبر (ہ س)۔ ملک کا دفاع کرتے ہوئے جنگ اور فوجی مہمات میں شدید طور پر زخمی ہونے والے چار سابق فوجی اب اپنے حوصلے اور پختہ عزم سے دوسروں کو ترغیب دینے
جنگ میں زخمی چار سابق فوجیوں کی اڈانی احمد آباد میراتھن میں دوڑ، جوانوں کے حوصلے کا پیغام دیں گے


اڈانی احمد آباد میراتھن میں چار سابق فوجی دوڑ کر جوانوں کے حوصلے کا پیغام دیں گے

احمد آباد، 27 اکتوبر (ہ س)۔ ملک کا دفاع کرتے ہوئے جنگ اور فوجی مہمات میں شدید طور پر زخمی ہونے والے چار سابق فوجی اب اپنے حوصلے اور پختہ عزم سے دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے دوڑیں گے۔ یہ چاروں فوجی 29 نومبر 2026 کو منعقد ہونے والی اڈانی احمد آباد میراتھن میں حصہ لیں گے۔ ’وار وونڈڈ فاونڈیشن‘ کی ٹیم پہلی بار اس میراتھن میں شریک ہوگی۔ اس ٹیم میں شامل چاروں سابق فوجیوں نے زخمی ہونے کے بعد زندگی کو نئے سرے سے سنوارنے، جسمانی و ذہنی چیلنجوں پر قابو پانے اور دوڑ کو اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانے کی حوصلہ افزا کہانیاں شیئر کی ہیں۔

وار وونڈڈ فاونڈیشن سال 2002 سے معذور فوجیوں کی بحالی اور بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس بار فاونڈیشن کے چار سابق فوجی نائک اشوک کمار، صوبیدار ستبیر سنگھ چوہان، سابق سپاہی راجیش کمار اور سابق کرافٹس مین نریش کمار میراتھن میں حصہ لے کر یہ پیغام دیں گے کہ جسمانی چوٹ کسی شخص کے حوصلے، خود اعتمادی اور آگے بڑھنے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتی۔

14 مہار رجمنٹ کے نائک اشوک کمار نے 30 اپریل 1994 کو ہندوستانی فوج میں بھرتی ہو کر 20 برسوں تک ملک کی خدمت کی۔ 11 اکتوبر 2002 کو جموں و کشمیر کے بالٹک سیکٹر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب آپریشن پراکرم کے دوران دشمن کی مارٹر گولہ باری میں ان کے دونوں پیروں اور بائیں گھٹنے میں شدید چوٹیں آئیں۔ انہیں جنگ میں زخمی فوجی کے طور پر درج کیا گیا۔

دہلی کے ریسرچ اینڈ ریفرل اسپتال اور پونے کے آرٹیفیشل لمب سینٹر میں علاج کے بعد وہ دوبارہ چلنے کے قابل ہوئے۔ تاہم، چوٹ سے سنبھلنے کے بعد ان کے سامنے ایک اور چیلنج کھڑا ہو گیا۔ علاج کے بعد بڑھے ہوئے وزن نے ان کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دیں۔ انہوں نے سخت غذائی پرہیز اور منظم معمولات کے ذریعے اپنے جسم کو دوبارہ تندرست بنایا۔

آج اشوک کمار سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ وار وونڈڈ فاونڈیشن کے رضاکار اور باقاعدہ میراتھن رنر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’’چوٹ لگنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ سب سے مشکل کام دوبارہ چلنا سیکھنا ہوگا۔ لیکن درحقیقت اس کے بعد کے حالات زیادہ چیلنجنگ تھے۔ وزن کا بڑھنا، ذہنی طور پر پیش آنے والی دشواریاں اور سب سے بڑا سوال کہ اب مجھے اپنی زندگی میں کیا کرنا چاہیے، یہ تمام چیزیں میرے لیے چیلنج تھیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’فاونڈیشن نے مجھے ایک سمت دی۔ جب میں نے ان دوسرے زخمی فوجیوں کے تجربات سنے، جو اسی طرح کے حالات سے گزر چکے تھے، تو مجھے سمجھ آیا کہ معذوری کو بھی صلاحیت میں بدلا جا سکتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میراتھن میں شامل ہر شخص اپنے گھر ایک پیغام لے کر جائے کہ انسان کو کبھی امید نہیں چھوڑنی چاہیے۔ اپنے فوجیوں کے لیے اڈانی احمد آباد میراتھن میں دوڑنے پر مجھے بڑا فخر ہے۔‘‘

صوبیدار ستبیر سنگھ چوہان کے لیے ’ایک بار فوجی، ہمیشہ فوجی‘ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا اصول ہے۔ وہ 22 اگست 2005 سے اس یقین کو اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔

19 راجپوت رجمنٹ میں خدمات کے دوران اس دن وہ شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے۔ انہیں ہڈیوں میں فریکچر اور نسوں کو نقصان پہنچنے جیسی سنگین چوٹیں آئیں۔ ان کی معذوری کو عمر بھر کے لیے 100 فیصد قرار دیا گیا۔ ایک ہی دن میں ان کا جسم بدل گیا لیکن ان کا حوصلہ اور فوجی ہونے کا جذبہ نہیں بدلا۔ آج ستبیر مہم جوئی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں اور باقاعدگی سے میراتھن میں دوڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’چوٹ نے ایک ہی دن میں میرے جسم کو بدل دیا، لیکن اس سے یہ نہیں بدلا کہ میں کون ہوں۔ وار وونڈڈ فاونڈیشن سے وابستہ ہونے کے بعد مجھے ایسے لوگ ملے، جو بغیر کچھ بتائے ہی میرے حالات کو سمجھتے تھے۔ وہیں میں نے سیکھا کہ ایک فوجی کبھی فوجی ہونا نہیں چھوڑتا۔‘‘

سابق سپاہی راجیش کمار مئی 1999 میں چھٹی راجپوت رجمنٹ میں بھرتی ہوئے تھے۔ چھ اپریل 2001 کو جموں و کشمیر کے پونچھ علاقے میں آپریشن رکشک کے دوران بارودی سرنگ کے اچانک دھماکے میں ان کا ایک پیر ضائع ہو گیا۔ انہیں جنگ میں زخمی فوجی کے طور پر درج کیا گیا۔

اس شدید چوٹ کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ راجیش کمار نے مجموعی طور پر 26 برسوں تک وردی میں ملک کی خدمت کی اور مئی 2025 میں ریٹائر ہوئے۔

چوٹ کے بعد انہوں نے اپنے ساتھی سابق فوجیوں کے ساتھ سماجی پروگراموں میں چار سے پانچ کلومیٹر تک دوڑنا شروع کیا۔ ان پروگراموں میں ملنے والے تمغوں نے انہیں نیا اعتماد بخشا۔ ان کے اہل خانہ اور بچے بھی گھر پر ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

راجیش کمار نے کہا، ’’ان ابتدائی تمغوں کی میرے لیے جتنی اہمیت تھی شاید دوسرے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم سابق فوجیوں کا ایک گروپ ساتھ چل رہا تھا اور ہر شخص پہلے سے تھوڑا زیادہ باحوصلہ محسوس کرتے ہوئے واپس لوٹا۔ میرے بچے گھر پر میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور اس سے بہتر ترغیب کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ میرے لیے اڈانی احمد آباد میراتھن کی ’رن فار آور سولجرز‘ پہل اس دوڑ کی دھڑکن ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ نوجوان اور فوج میں بھرتی ہونے کی خواہش رکھنے والے لوگ ایسے شخص کو دیکھیں، جس نے اپنا ایک پیر گنوا دیا لیکن آج بھی قوم کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار ہے۔‘‘

سابق کرافٹس مین نریش کمار کے لیے دوڑنا متحرک رہنے اور زندگی کے تئیں مثبت نقطۂ نظر برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اگست 1999 میں دھماکے سے انہیں شدید چوٹیں آئی تھیں، جس کی وجہ سے ان کے سننے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ جنگ میں زخمی فوجی کی حیثیت سے زندگی کو دوبارہ سنوارنا ان کے لیے بھی آسان نہیں تھا لیکن انہوں نے متحرک اور مصروف رہنے کے راستے تلاش کرنا جاری رکھا۔

باقاعدہ کونسلنگ، علاج، بحالی سے متعلق تعاون اور جنگ میں متاثرہ دیگر فوجیوں کے ساتھ بات چیت سے انہیں حوصلہ اور اپنائیت ملی۔ انہوں نے خود کو چیلنج دیتے رہنے کے لیے دوڑنا شروع کیا اور اب تک کئی میراتھن میں حصہ لے چکے ہیں۔

نریش کمار نے کہا، ’’کوئی چوٹ آپ کے حالات کو بدل سکتی ہے لیکن اسے آپ کو آگے بڑھنے سے روکنا ضروری نہیں ہے۔ دوڑنا مجھے متحرک رکھتا ہے اور میرا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ میں کئی میراتھن میں حصہ لے چکا ہوں اور مجھے سب سے زیادہ خوشی دوسرے رنرز سے ملنے اور ان کے ساتھ مثبت سوچ بانٹنے میں ملتی ہے۔‘‘

اڈانی احمد آباد میراتھن شہر کے سالانہ کھیلوں کے مقابلوں سے آگے بڑھ کر ایک سماجی مقصد سے بھی جڑ گئی ہے۔ میراتھن کی ’رن فار آور سولجرز‘ پہل کے تحت رجسٹریشن سے ملنے والی رقم کا ایک حصہ ہندوستانی مسلح افواج کی بہبود کے لیے دیا جاتا ہے۔ پچھلے سال اس تقریب میں 3,000 سے زائد دفاعی اہلکاروں نے حصہ لیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستھان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande