ای اے اے اے انڈیا آلٹرنیٹوز کا آئی پی او سبسکرپشن کے لیے کھلا، 2 نومبر کو ہو سکتی ہے لسٹنگ
نئی دہلی، 26 اکتوبر (ہ س)۔ رئیل اثاثوں اور نجی قرضوں کی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کرنے والے متبادل سرمایہ کاری کے انتظامی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے والی کمپنی ای اے اے اے انڈیا آلٹرنیٹوز لمیٹڈ کا 1,200 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھول د
شیئربازار


نئی دہلی، 26 اکتوبر (ہ س)۔ رئیل اثاثوں اور نجی قرضوں کی مارکیٹ پر توجہ مرکوز کرنے والے متبادل سرمایہ کاری کے انتظامی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرنے والی کمپنی ای اے اے اے انڈیا آلٹرنیٹوز لمیٹڈ کا 1,200 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ کمپنی فنڈز کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی اور ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں، زیادہ سرمایہ رکھنے والے انفرادی سرمایہ کاروں (ایچ این آئی) اور فیملی آفسز کو سرمایہ کاری کے حل فراہم کرتی ہے۔ اس آئی پی او میں سرمایہ کار 28 اکتوبر تک بولی لگا سکتے ہیں۔ کمپنی نے آئی پی او کھلنے سے پہلے 23 اکتوبر کو اینکر سرمایہ کاروں سے 360 کروڑ روپے جمع کیے تھے۔

آئی پی او بند ہونے کے بعد 29 اکتوبر کو حصص الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 30 اکتوبر کو الاٹ کیے گئے حصص کامیاب سرمایہ کاروں کے ڈی میٹ کھاتوں میں جمع کر دیے جائیں گے۔ اسی دن جن سرمایہ کاروں کو حصص الاٹ نہیں ہوں گے، ان کی رقم واپس کرنے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔ کمپنی کے حصص 2 نومبر کو نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) اور بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) میں درج ہو سکتے ہیں۔

اس آئی پی او کے لیے فی حصص قیمت کا دائرہ 1,585 روپے سے 1,665 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایک لاٹ میں 9 حصص ہوں گے۔ عام انفرادی سرمایہ کار کم از کم ایک لاٹ، یعنی 9 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں 14,985 روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ وہ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹ، یعنی 117 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے 1,94,805 روپے درکار ہوں گے۔

اس آئی پی او کے تحت 5 روپے کی فی حصص اصل قیمت والے مجموعی طور پر 72,07,207 حصص فروخت کیے جا رہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر آفر فار سیل (او ایف ایس) پر مبنی ہے، یعنی کمپنی نئے حصص جاری نہیں کر رہی، بلکہ موجودہ حصص دار اپنے حصص فروخت کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی پوری رقم حصص فروخت کرنے والے پروموٹر اور حصص دار ایڈل وائز سیکیورٹیز اینڈ انویسٹمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کو ملے گی۔

آئی پی او میں اہل ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (کیو آئی بی) کے لیے 50 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفرادی سرمایہ کاروں کے لیے 35 فیصد اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے 15 فیصد حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس آئی پی او کے لیے ایکسس کیپیٹل لمیٹڈ، جیفریز انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ، موتی لال اوسوال انویسٹمنٹ ایڈوائزرز لمیٹڈ اور نوواما ویلتھ مینجمنٹ لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجرز مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایم یو ایف جی اِن ٹائم انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ رجسٹرار کی ذمہ داری سنبھالے گی۔

چونکہ یہ آئی پی او مکمل طور پر آفر فار سیل (او ایف ایس) ہے، اس لیے حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کمپنی کو نہیں ملے گی، بلکہ پوری خالص رقم فروخت کرنے والے حصص داروں کو حاصل ہوگی۔ کمپنی کو امید ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ سے اس کے برانڈ کی پہچان بڑھے گی اور اس کے حصص کو عوامی مارکیٹ میں خرید و فروخت کا موقع ملے گا۔

ای اے اے اے انڈیا آلٹرنیٹوز لمیٹڈ کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ کے نگران ادارے سیبی کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، گزشتہ مالی برسوں کے دوران کمپنی کی مالی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

مالی سال 2024تا2025 میں کمپنی کو 229.78 کروڑ روپے کا خالص منافع (ٹیکس کی ادائیگی کے بعد منافع) ہوا تھا۔ مالی سال 2025تا2026 میں یہ منافع 15 فیصد بڑھ کر 265.20 کروڑ روپے ہو گیا۔ موجودہ مالی سال 2026تا2027 کی پہلی سہ ماہی، یعنی 30 جون 2026 تک، کمپنی 80.71 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کر چکی تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande