
نئی دہلی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ جیو پلیٹ فارم کے آئی پی او نے ہندوستانی سرمایہ بازار میں کئی نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ 30,213 کروڑ روپے کا یہ آئی پی او نہ صرف ملک کا اب تک کا سب سے بڑا پبلک ایشو بن گیا ہے، بلکہ اس کے لیے دنیا میں پہلی بار کسی کمپنی کو ایک کروڑ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایشو کھلنے کے تقریباً 100 منٹ کے اندر ہی اسے مکمل طور پر سبسکرپشن مل گیا تھا۔
جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او 21 سے 23 اکتوبر تک سرمایہ کاروں کے لیے کھلا تھا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے اعداد و شمار کے مطابق، آخری دن تک اس کا مجموعی سبسکرپشن 22.19 گنا رہا۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (کیو آئی بی) نے اس میں سب سے زیادہ دلچسپی دکھائی۔ ان کے لیے مختص حصے کو 70.55 گنا سبسکرپشن ملا، جب کہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے زمرے میں یہ شرح 14 گنا رہا۔ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصے کو 2.72 گنا اور ملازمین کے لیے مختص حصے کو 2.91 گنا سبسکرپشن ملا۔
اس آئی پی او کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد نے بھی عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ جیو پلیٹ فارم کو ایک کروڑ سے زیادہ انفرادی سرمایہ کاروں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ واری انرجیز کے نام تھا، جس کے آئی پی او کے لیے تقریباً 97.3 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ جیو کے ایشو میں خوردہ سرمایہ کاروں سے لے کر بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک کی شرکت ہندوستانی پرائمری مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
ایشو کے حجم کے اعتبار سے بھی جیو پلیٹ فارم نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اس سے پہلے ہندوستان کے سب سے بڑے آئی پی او کا ریکارڈ ہنڈائی موٹر انڈیا کے پاس تھا، جس نے اپنے ایشو کے ذریعے 27,870 کروڑ روپے جمع کیے تھے۔ اس کے بعد این ایس ای انڈیا کا 22,561 کروڑ روپے اور لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا (ایل آئی سی) کا 21,008 کروڑ روپے کا آئی پی او بڑے پبلک ایشو کی فہرست میں شامل تھا۔ اب جیو پلیٹ فارم کے 30,213 کروڑ روپے کے ایشو نے ان تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس آئی پی او کی ایک اور اہم خصوصیت اس کی ساخت ہے۔ پورا ایشو نئے شیئر جاری کرکے کیا گیا، نہ کہ موجودہ سرمایہ کاروں کے حصص فروخت کرکے۔ کمپنی نے تقریباً 27 کروڑ نئے شیئر جاری کیے۔ اس طرح ایشو سے حاصل ہونے والی رقم براہ راست کمپنی کو ملے گی۔ اس میں ریلائنس انڈسٹریز، میٹا یا گوگل جیسے موجودہ حصص یافتگان کی جانب سے آفر فار سیل کے تحت شیئر فروخت کرنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ہندوستانی بازار میں اتنے بڑے حجم کا مکمل طور پر نئے شیئرز پر مبنی آئی پی او اپنے آپ میں ایک اہم کامیابی ہے۔
سرمایہ کاروں کی غیر معمولی مانگ کا اثر آئی پی او کی بولی لگانے کے عمل پر بھی پڑا۔ عام طور پر اسٹاک ایکسچینج میں آئی پی او کے لیے درخواستیں صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک دی جا سکتی ہیں۔ لیکن جیو پلیٹ فارمز کے اجرا کے دوران درخواستوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے بامبے اسٹاک ایکسچینج اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج نے بولی لگانے کا وقت بڑھا کر صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کو درخواست دینے کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا تھا۔
مانگ کی مالیت کے لحاظ سے بھی اس ایشو نے نمایاں اعداد و شمار درج کیے۔ اینکر سرمایہ کاروں کی بولیوں کو شامل کرنے پر جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او کے لیے مجموعی طلب تقریباً 7.4 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اینکر سرمایہ کاروں کو الگ رکھنے پر عوامی اجرا کے لیے 4.9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بولیاں موصول ہوئیں۔ اینکر سرمایہ کاروں کے لیے تقریباً 8,110 کروڑ روپے کے شیئر مختص کیے گئے تھے، جب کہ اس حصے کے لیے تقریباً 2.5 لاکھ کروڑ روپے کی بولیاں موصول ہونے کی اطلاع ہے۔
آئی پی او کے لیے فی شیئر 1,119 روپے کی مقررہ بالائی قیمت کی بنیاد پر جیو پلیٹ فارم کی متوقع بازار قدر تقریباً 10.3 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس قدر کے مطابق، اسٹاک ایکسچینج میں فہرست بند ہونے کے بعد کمپنی ملک کی سب سے بڑی کمپنیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کی اصل بازار قدر کا انحصار لسٹنگ کے وقت شیئر کی بازار قیمت پر ہوگا۔
بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او ہندوستانی کمپنیوں کے لیے سرمایہ جمع کرنے کے بدلتے ہوئے رجحانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ بڑے پبلک ایشو میں سرمایہ کاروں کی شرکت، ڈیجیٹل اور ٹیلی کام کاروبار میں دلچسپی اور نئے شیئر جاری کرکے کمپنی کے لیے سرمایہ جمع کرنے کی حکمت عملی اس اجرا کے اہم پہلو رہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئی پی او کو زیادہ سبسکرپشن ملنے یا کمپنی کی متوقع قدر بلند ہونے سے لسٹنگ کے بعد شیئر کی قیمت میں اضافے کی ضمانت نہیں ملتی۔ شیئر کی کارکردگی کا انحصار بازار کے حالات، کمپنی کے کاروبار اور مستقبل میں سرمایہ کاروں کی مانگ پر ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد