ڈالر کی مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں کے سامنے شیئر بازار بے بس، سرمایہ کاروں کو 7.42 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان
نئی دہلی، 23 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے پیدا ہونے والے اقتصادی دباو کے باعث آج گھریلو شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی۔ عالمی سطح پر بنے دباو کے سبب بازار میں ز
Stock-Market-Closing


نئی دہلی، 23 اکتوبر (ہ س)۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے پیدا ہونے والے اقتصادی دباو کے باعث آج گھریلو شیئر بازار میں زبردست گراوٹ درج کی گئی۔ عالمی سطح پر بنے دباو کے سبب بازار میں زیادہ تر وقت فروخت کا زور رہا۔ تاہم، کاروبار کے دوسرے سیشن میں خریداروں نے منتخب شیئروں میں خریداری کرکے سینسیکس اور نفٹی کی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود دونوں اہم اشاریے سبز نشان میں واپس نہیں آسکے۔ اس طرح دن بھر کے اتار چڑھاو کے بعد شیئر بازار مسلسل چوتھے کاروباری دن گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان میں بند ہوا۔

کاروبار کے آغاز میں بازار میں تیزی دیکھی گئی اور خریداری کے باعث دونوں اشاریوں میں مزید بہتری آئی۔ تاہم، کچھ ہی دیر بعد فروخت کا دباو¿ بڑھنے سے ابتدائی تیزی برقرار نہ رہ سکی۔ پہلے نصف گھنٹے میں ہی فروخت کرنے والے بازار پر حاوی ہوگئے۔ بلند سطح پر منافع وصولی اور عالمی دباو کے باعث سینسیکس اور نفٹی مسلسل نیچے گرتے چلے گئے۔

فروخت کے اس دباو میں سینسیکس دن کی بلند ترین سطح سے 1,314 پوائنٹس سے زیادہ نیچے آگیا، جبکہ نفٹی میں بھی بلند ترین سطح سے 415 پوائنٹس سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی۔ تاہم، دوپہر ڈیڑھ بجے کے بعد خریداروں نے دوبارہ منتخب شیئروں میں خریداری شروع کی، جس سے بازار کو نچلی سطح سے سنبھلنے میں مدد ملی۔ دن بھر کے کاروبار کے اختتام پر سینسیکس 0.17 فیصد اور نفٹی 0.39 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ اس زبردست فروخت کے باعث سرمایہ کاروں کی مجموعی دولت میں تقریباً 7.42 لاکھ کروڑ روپے کی کمی آگئی۔

بی ایس ای کا سینسیکس گزشتہ کاروباری دن کے اختتامی سطح 73,249.39 پوائنٹس کے مقابلے میں 416.25 پوائنٹس یعنی 0.57 فیصد اضافے کے ساتھ 73,665.64 پوائنٹس پر کھلا۔ ابتدائی خریداری کے سہارے یہ جلد ہی 517.12 پوائنٹس یعنی 0.71 فیصد بڑھ کر 73,766.51 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم، یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی۔

ابتدائی کاروبار کے بعد منافع وصولی کے باعث سینسیکس اپنی تمام ابتدائی برتری کھو بیٹھا اور بلند ترین سطح سے 1,314.14 پوائنٹس گر کر 72,452.37 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا۔ اس دوران اشاریے میں 797.02 پوائنٹس یعنی 1.09 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ تاہم، دوپہر ڈیڑھ بجے کے بعد منتخب شیئروں میں خریداری سے اسے سہارا ملا۔ اس طرح سینسیکس نچلی سطح سے 671.46 پوائنٹس سنبھلا اور بالآخر 125.56 پوائنٹس یعنی 0.17 فیصد کی کمی کے ساتھ 73,123.83 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسی طرح نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی گزشتہ کاروباری دن کے اختتامی سطح 22,687.65 پوائنٹس کے مقابلے میں 54.55 پوائنٹس یعنی 0.24 فیصد اضافے کے ساتھ 22,742.20 پوائنٹس پر کھلا۔ ابتدائی خریداری کے باعث یہ 99.60 پوائنٹس یعنی 0.44 فیصد بڑھ کر 22,787.25 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس کے بعد فروخت کا دباو¿ بڑھنے سے نفٹی مسلسل نیچے گرتا چلا گیا۔

خریداروں نے وقفے وقفے سے بازار کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن فروخت کے شدید دباو کے سامنے ان کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ نفٹی بلند ترین سطح سے 415.25 پوائنٹس گر کر 22,372 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آگیا۔ اس دوران اس میں 315.65 پوائنٹس یعنی 1.39 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔ تاہم، کاروبار کے دوسرے سیشن میں خریداری بڑھنے سے نفٹی نچلی سطح سے 228 پوائنٹس سنبھلا اور بالآخر 87.65 پوائنٹس یعنی 0.39 فیصد کی کمی کے ساتھ 22,600 پوائنٹس پر بند ہوا۔

دن بھر کے کاروبار میں مختلف شعبوں کے اشاریوں میں مجموعی طور پر کمزوری دیکھی گئی، جس میں دھاتوں کے شعبے کے شیئروں میں سب سے زیادہ گراوٹ درج کی گئی۔ نفٹی بینک انڈیکس 1.16 فیصد، نفٹی پی ایس یو بینک انڈیکس 2.26 فیصد، نفٹی فارما انڈیکس 1.04 فیصد اور نفٹی فنانشل سروسز انڈیکس 1.03 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔

اسی طرح نفٹی ایف ایم سی جی انڈیکس 0.99 فیصد، نفٹی آٹو انڈیکس 0.60 فیصد اور نفٹی آئی ٹی انڈیکس 0.27 فیصد گر کر بند ہوئے۔ بروڈر مارکیٹ میں بھی شدید دباو برقرار رہا۔ نفٹی مڈکیپ 100 انڈیکس 2.21 فیصد جبکہ اسمال کیپ انڈیکس 2.94 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔

بازار میں اس گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 7.42 لاکھ کروڑ روپے کی کمی آگئی۔ بی ایس ای میں درج کمپنیوں کا مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کاروبار کے اختتام پر گھٹ کر 451.83 لاکھ کروڑ روپے (عارضی) رہ گیا، جبکہ گزشتہ کاروباری دن، یعنی جمعرات کو یہ 459.25 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ تھا۔ اس طرح ایک ہی دن میں سرمایہ کاروں کی مجموعی دولت میں 7.42 لاکھ کروڑ روپے کی کمی درج کی گئی۔

آج این ایس ای میں مجموعی طور پر 3,297 شیئروں میں کاروبار ہوا۔ ان میں سے 434 شیئر منافع کے ساتھ سبز نشان میں، جبکہ 2,863 شیئر نقصان کے ساتھ سرخ نشان میں بند ہوئے۔ سینسیکس کے 30 شیئروں میں سے 10 میں تیزی اور 20 میں گراوٹ درج کی گئی۔ دوسری جانب نفٹی کے 50 شیئروں میں سے 13 سبز نشان میں، 36 سرخ نشان میں اور ایک شیئر بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوا۔

دن بھر کے کاروبار کے بعد بڑے شیئروں میں ایٹرنل 4.25 فیصد، اپولو ہاسپٹلس 1.65 فیصد، او این جی سی 1.11 فیصد، ایشین پینٹس 0.97 فیصد اور ٹی سی ایس 0.92 فیصد کے اضافے کے ساتھ سرفہرست پانچ فائدہ اٹھانے والے شیئروں میں شامل رہے۔

اس کے برعکس شری رام فائنانس 3.98 فیصد، جے ایس ڈبلیو اسٹیل 2.83 فیصد، جیو فائنانشیل سروسز 2.74 فیصد، ٹاٹا اسٹیل 2.70 فیصد اور نیسلے 1.25 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے پانچ شیئروں میں شامل رہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande