
نئی دہلی، 23 اکتوبر (ہ س)۔ ٹیکنالوجی پر مبنی پلیٹ فارم اور منظم مارکیٹ پلیس چلانے والی کمپنی جیٹ ورک مینوفیکچرنگ بزنس لمیٹڈ کے حصص نے جمعہ کو اسٹاک مارکیٹ میں مثبت آغاز کیا، لیکن کمپنی اس برتری کو برقرار نہیں رکھ سکی۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے حصص 151 روپے فی شیئر کے حساب سے جاری کیے گئے تھے۔ جمعہ کو بی ایس ای پر اس کی لسٹنگ 5 فیصد سے زیادہ پریمیم کے ساتھ 159 روپے پر ہوئی، جبکہ این ایس ای پر اس کی لسٹنگ 159.25 روپے پر ہوئی۔
لسٹنگ کے بعد ابتدائی خریداری کے باعث حصص کی قیمت کچھ ہی دیر میں بڑھ کر 161 روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم، اس کے بعد مارکیٹ میں منافع وصولی اور بڑے پیمانے پر فروخت کے دباؤ کے سبب حصص کی قیمت تیزی سے گر کر 127.20 روپے کی نچلی سطح تک پہنچ گئی۔ دن بھر کی خرید و فروخت کے بعد کمپنی کا شیئر 138.30 روپے پر بند ہوا۔ اس طرح آئی پی او میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو پہلے ہی دن فی شیئر 12.70 روپے، یعنی 8.41 فیصد کا نقصان اٹھانا پڑا۔
کمپنی کا 5,012.33 کروڑ روپے کا آئی پی او 15 سے 19 اکتوبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے معمولی ردعمل ملا اور یہ مجموعی طور پر 2.16 گنا سبسکرائب ہوا۔ کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 4.71 گنا (اینکر سرمایہ کاروں کو چھوڑ کر) سبسکرائب ہوا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے مختص حصہ 1.43 گنا سبسکرائب ہوا۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ صرف 0.77 گنا، جبکہ کمپنی کے ملازمین کے لیے مختص حصہ 1.29 گنا سبسکرائب ہوا۔
اس آئی پی او کے تحت ایک روپے کی فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 33,20,07,155 حصص جاری کیے گئے۔ ان میں 2,830.43 کروڑ روپے مالیت کے 18,74,82,119 نئے حصص شامل تھے، جبکہ 2,181.90 کروڑ روپے مالیت کے 14,45,25,036 حصص آفر فار سیل (او ایف ایس) کے ذریعے فروخت کیے گئے۔ نئے حصص کے اجرا سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کمپنی بنیادی طور پر اپنے پرانے قرضوں کی ادائیگی، بعض ذیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری، اسٹریٹجک حصول کے ذریعے کاروبار کو وسعت دینے اور عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔
جٹ ورک مینوفیکچرنگ بزنسز لمیٹڈ کی مالی حالت کے بارے میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران کمپنی کی مالی کارکردگی میں کافی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کو 917.95 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں کم ہو کر 370.71 کروڑ روپے رہ گیا۔ تاہم، مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کو دوبارہ بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور اس کا خالص خسارہ بڑھ کر 1,606.17 کروڑ روپے ہو گیا۔ موجودہ مالی سال 2026تا2027 کی پہلی سہ ماہی، یعنی 30 جون 2026 تک، کمپنی کو 732.98 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہو چکا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی