
نئی دہلی، 22 اکتوبر (ہ س)۔ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کشیدگی کی آگ میں آج گھریلو شیئر مارکیٹ بری طرح جھلس گئی۔ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے تناو¿ کے باعث آج زیادہ تر وقت مقامی اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کا دباو¿ رہا۔ تاہم، دن کے پہلے سیشن کے دوران، مارکیٹ نےپی ایس یو بینک اور فارما کے حصص کی مدد سے نچلی سطح سے بحالی کی کوشش کی، لیکن آئی ٹی ،ایف ایم سی جی اور آٹو سیکٹر میں بھاری فروخت کی وجہ سے یہ ریکوری برقرار نہیں رہ سکی۔ پورے دن کے کاروبار کے بعد اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیسرے کاروباری دن زبردست گراوٹ کے ساتھ سرخ نشان میں بند ہوا۔
آج کے کاروبار کا آغاز بھی کمی کے ساتھ سرخ نشان میں ہوا۔ تاہم، مارکیٹ کھلنے کے بعد، خریداروں نے اپنی خرید اری کا دباو¿ بڑھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی دونوں انڈیکس کی نقل و حرکت میں معمولی بہتری آئی۔ ٹریڈنگ کے پہلے دو گھنٹوں کے دوران مارکیٹ میں خریداری کا دباو¿ دیکھا گیا، لیکن اس کے بعد فروخت کنندگان نے مارکیٹ پر حاوی ہو گئے ۔ خاص طور پر دن کے دوسرے سیشن میں اونچی سطح سے شروع ہوئی منافع وصولی اور عالمی دباو¿ کی وجہ سے فروخت کا دباو¿ بڑھ گیا جس کی وجہ سے سینسیکس اور نفٹی دونوں انڈیکس گر گئے۔ پورے دن کے کاروبار کے بعد سینسیکس 0.62 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ اسی طرح، نفٹی نے آج کی تجارت 0.54 فیصد کی کمی کے ساتھ ختم کی۔
بازار میں ہو رہی فروخت کے اس تیز جھٹکے کی وجہ سے سینسیکس نے آج دن کی اپنی اونچی سطح سے 700 پوائنٹس سے زیادہ غوطہ لگا دیا، جب کہ نفٹی بھی اپنی بلند ترین سطح سے 250 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا، جس نے اسے 22,700 کی نفسیاتی سطح سے نیچے کھسکنے پر مجبور کیا۔ اس وسیع پیمانے پر فروخت کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے کی زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔
بامبے اسٹاک ایکسچینج (بی ایس ای) کا سینسیکس گزشتہ کاروباری دن کے کلوزنگ لیول73,709.69 پوائنٹس کے مقابلے میں 366.36 پوائنٹس یعنی 0.50 فیصد کی کمی کے ساتھ 73,343.33 پوائنٹس کی سطح پر کھلا۔ ابتدائی خریداری کے سہارے یہ جلد ہی سبز نشان میں آ گیا اور 73,720.83 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
کاروبار کے ابتدائی دو گھنٹوں کے بعد ہی مارکیٹ میں منافع وصولی شروع ہو گئی۔ مختلف شعبوں میں فروخت کے دباو¿ کے باعث سینسیکس اپنی بلند ترین سطح سے 715 پوائنٹس سے زیادہ پھسل کر 73,005.11 پوائنٹس کی نچلی سطح تک آ گیا۔ بعد ازاں، نچلی سطحوں پر خریداری سے اسے کچھ سہارا ملا اور یہ دن کی نچلی سطح سے 244.28 پوائنٹس کی بہتری کے باوجود 460.30 پوائنٹس یعنی 0.62 فیصد کی کمی کے ساتھ 73,249.39 پوائنٹس پر بند ہوا۔
نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کے نفٹی نے بھی 123.60 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 22,687.75 پوائنٹس پر کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی خریداری کے باعث یہ 22,785 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا، لیکن اس کے بعد فروخت کرنے والوں کا دباو¿ بڑھتا گیا۔ خریداروں نے کئی مرتبہ خریداری کے ذریعے مارکیٹ کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن فروخت کے شدید دباو¿ کے باعث انہیں کامیابی نہیں ملی۔
مسلسل فروخت کے سبب نفٹی 256.50 پوائنٹس یعنی 1.12 فیصد پھسل کر 22,554.85 پوائنٹس کی نچلی سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم کاروبار کے اختتام سے کچھ دیر پہلے فارما اور سرکاری شعبے کے بینکوں کے حصص میں خریداری سے اسے کچھ سہارا ملا۔ اس کے نتیجے میں نفٹی نچلی سطح سے 132.80 پوائنٹس سنبھلا، لیکن پھر بھی 123.70 پوائنٹس یعنی 0.54 فیصد کی کمی کے ساتھ 22,687.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔
دن بھر کے کاروبار میں مختلف شعبوں کے اشاریوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ فروخت کے دباو¿ کے درمیان صرف نفٹی پی ایس یو بینک انڈیکس میں 0.07 فیصد اور نفٹی فارما انڈیکس میں 0.12 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ اس کے برعکس نفٹی ایف ایم سی جی انڈیکس 1.41 فیصد، نفٹی آئی ٹی انڈیکس 1.05 فیصد اور نفٹی آٹو انڈیکس 0.73 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔
بروڈر مارکیٹ میں بھی کمزوری برقرار رہی۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 0.87 فیصد اور اسمال کیپ انڈیکس 1.14 فیصد کی کمی کے ساتھ بند ہوئے۔
مارکیٹ میں گراوٹ کے نتیجے میں بی ایس ای میں درج کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ قدر گھٹ کر 458.39 لاکھ کروڑ روپے (عارضی) رہ گئی، جبکہ گزشتہ کاروباری دن بدھ کو یہ 462.38 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح ایک ہی دن میں سرمایہ کاروں کی دولت میں تقریباً 3.99 لاکھ کروڑ روپے کی کمی ہوئی۔
بی ایس ای میں دن بھر 4,565 حصص میں کاروبار ہوا۔ ان میں سے 1,462 حصص اضافے کے ساتھ بند ہوئے، جبکہ 2,873 حصص میں گراوٹ درج کی گئی اور 230 حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ این ایس ای میں 3,238 حصص میں سرگرم کاروبار ہوا، جن میں سے 891 حصص اضافے اور 2,347 حصص گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے۔
سینسیکس کے 30 حصص میں سے 11 میں اضافہ اور 19 میں کمی درج کی گئی۔ اسی طرح نفٹی کے 50 حصص میں سے 13 سبز نشان میں جبکہ 37 سرخ نشان میں بند ہوئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد