ایس بی آئی نے صارفین کی ذاتی معلومات افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع کی
نئی دہلی، 21 اکتوبر (ہ س)۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے اپنے صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں صارفین کی ذاتی تفصیلات پر مشتمل 3,897 ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بینک نے کہا ہے
SBI-CUSTOMER-DATA-EXPOSURE-DARK-WEB


نئی دہلی، 21 اکتوبر (ہ س)۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) نے اپنے صارفین کی ذاتی معلومات ڈارک ویب پر افشا ہونے کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی جانچ میں صارفین کی ذاتی تفصیلات پر مشتمل 3,897 ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بینک نے کہا ہے کہ اس واقعے سے اس کے بنیادی کاروباری امور پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا ہے اور خدمات معمول کے مطابق جاری ہیں۔ معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق اصلاحی اقدامات کے ساتھ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

ایس بی آئی کے مطابق، صارفین کے 3,897 ریکارڈ میں ذاتی معلومات ڈارک ویب پر افشا ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ان ریکارڈ میں صارفین کے نام، موبائل نمبر، ای میل پتے، تاریخ پیدائش اور رہائشی پتے جیسی معلومات شامل ہیں۔ بینک کو ممکنہ طور پر ڈیٹا لیک ہونے کے بارے میں پہلی اطلاع 16 اکتوبر کو ملی تھی۔ یہ اطلاع بینک کے تھریٹ انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے ادارے، ڈیفنس سائبر ایجنسی اور انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی-اِن) کی جانب سے دی گئی تھی۔

ایس بی آئی نے 21 اکتوبر کو اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ اسے 16 اکتوبر کو اپنے تھریٹ انٹیلی جنس سروس فراہم کرنے والے ادارے، ڈیفنس سائبر ایجنسی اور سی ای آر ٹی-ان سے اس معاملے کی اطلاع ملی تھی۔ اس میں بینک کے صارفین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر افشا ہو نے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

بینک کے مطابق، ابتدائی تجزیے کے دوران ڈارک ویب پر دستیاب تقریباً 3.75 لاکھ ریکارڈ کی جانچ کی گئی۔ ان میں سے 3,897 ریکارڈ میں ذاتی شناخت سے متعلق معلومات (پی آئی آئی) پائی گئیں۔ ان معلومات میں صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبر، تاریخ پیدائش، نام، جنس، ای میل پتے، رہائشی پتے، برانچ اور صارف شناختی نمبر (سی آئی ایف)، لیڈ آئی ڈی کے علاوہ قرض اور لیڈ ریکارڈ سے متعلق دیگر میٹا ڈیٹا بھی شامل تھا۔

ایس بی آئی نے بتایا کہ افشا ہونے والے ڈیٹا کی صداقت، مکمل ہونے یا نہ ہونے، ممکنہ ذرائع اور دائرہ کار کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ صارفین اور بینک کو لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے لیے تفصیلی تحقیقات ضروری تھیں۔ بینک نے فوری طور پر سائبر واقعے سے نمٹنے اور اس کے اثرات کو محدود کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ اس کے علاوہ، معاملے کی نوعیت اور مبینہ طور پر ڈیٹا افشا ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے سی ای آر ٹی-اِن سے وابستہ ایک آزاد سائبر سکیورٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande