پنجاب نیشنل بینک نے اے آئی کے ذریعے ہونے والی سائبر دھوکہ دہی کے تعلق سے صارفین کو خبردار کیا
نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ سرکاری شعبے کے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے آواز کی نقل، ڈیپ فیک اور فشنگ (جعلی پیغامات کے ذریعے خفیہ معلومات چرانے کی کوشش) جیسے سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر صارفین کو خب
پنجاب نیشنل بینک نے اے آئی کے ذریعے ہونے والی سائبر دھوکہ دہی کے تعلق سے صارفین کو خبردار کیا


نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ سرکاری شعبے کے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے آواز کی نقل، ڈیپ فیک اور فشنگ (جعلی پیغامات کے ذریعے خفیہ معلومات چرانے کی کوشش) جیسے سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر صارفین کو خبردار کیا ہے۔

بینک نے جاری ایک بیان میں سائبر دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر صارفین کو احتیاط برتنے اور کسی بھی پیغام یا کال پر تصدیق کیے بغیر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ پی این بی نے کہا کہ دھوکہ باز اب جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔

بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) اشوک چندرا نے صارفین کے نام پیغام میں کہا، ’’آج کل سائبر فراڈ کے کئی معاملات میں لوگوں کے رویے، خاص طور پر بھروسے، خوف، جلد بازی اور روزمرہ کی ڈیجیٹل عادتوں کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ دھوکہ باز آپ کے اہل خانہ، دوستوں یا قابل اعتماد لوگوں کی آواز یا چہرے تک کی نقل کرسکتے ہیں اور فوری رقم بھیجنے کے لیے کسی ہنگامی صورت حال کا جھوٹا دعویٰ کرسکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اسی طرح جعلی ای میل، ایس ایم ایس یا پیغامات بہت ذاتی نوعیت کے اور بینک کے اصلی پیغامات جیسے دکھائی دے سکتے ہیں۔ اس سے ان کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایسے پیغامات لوگوں میں گھبراہٹ پیدا کرتے ہیں اور صارفین تصدیق کیے بغیر کارروائی کر بیٹھتے ہیں۔

ملک بھر میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سرکاری اور نجی شعبے کے بینک جدید اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات، کوانٹم کمپیوٹنگ سے متعلق خدشات اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی سخت ضابطہ جاتی ہدایات سے نمٹنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی پر سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) نے صارفین کو بتایا کہ ہر سال اکتوبر کو قومی سائبر سکیورٹی بیداری ماہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande