
نئی دہلی، 20 اکتوبر (ہ س)۔ گھریلو شیئر بازار میں اتار چڑھاؤ کے درمیان پرائمری مارکیٹ میں دو بڑی کمپنیوں کے آئی پی او سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بننے جا رہے ہیں۔ ایک طرف ریلائنس گروپ کی جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ ہے، تو دوسری طرف شمالی ہندوستان میں اسپتال چلانے والی پارس ہیلتھ کیئر لمیٹڈ ہے۔ دونوں کمپنیوں کی مالی حالت، کاروباری ماڈل اور خطرات میں نمایاں فرق ہے۔
جیو پلیٹ فارمز کا 30,213 کروڑ روپے کا آئی پی او مکمل طور پر نئے شیئرز کے اجرا پر مشتمل ہے۔ کمپنی اس میں سے 27,500 کروڑ روپے کاروبار کی توسیع اور اپنی ذیلی کمپنی ریلائنس جیو انفوکام لمیٹڈ کے قرض کی جزوی ادائیگی پر خرچ کرے گی۔
مالی سال 24-2023 اور 25-2024 کے دوران کمپنی کی آمدنی 1,29,333 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,49,759.10 کروڑ روپے ہوگئی۔ اسی دوران خالص منافع 26,120.30 کروڑ روپے سے بڑھ کر 30,052.70 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی کمپنی نے 7,764.10 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔ 51 فیصد سے زیادہ کا ای بی آئی ٹی ڈی اے مارجن کمپنی کی مضبوط مالی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب، پارس ہیلتھ کیئر کا آئی پی او 1,450 کروڑ روپے کا ہے۔ کمپنی بہار، جھارکھنڈ سمیت شمالی ہندوستان میں آٹھ سپر اسپیشلٹی اسپتال چلاتی ہے۔ مالی سال 24-2023 اور 25-2024 میں خسارے کے بعد، مالی سال 2025-26 میں کمپنی نے 43 کروڑ روپے سے زیادہ کا خالص منافع حاصل کیا۔ جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی 49 کروڑ روپے سے زیادہ کا منافع درج کیا گیا۔ کمپنی اپنی بستروں کی موجودہ گنجائش 2,211 سے بڑھا کر مارچ 2028 تک 3,011 کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
تاہم، پارس ہیلتھ کیئر پر 1,429.49 کروڑ روپے کا قرض ہے۔ اس کے آئی پی او میں سے 950 کروڑ روپے آفر فار سیل کے ذریعے پروموٹرز اور شیئر ہولڈرز کو ملیں گے، جس سے کمپنی کو براہ راست فائدہ نہیں ہوگا۔
جیو پلیٹ فارمز نے 1,065 سے 1,119 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ مقرر کیا ہے، جبکہ پارس ہیلتھ کیئر کا پرائس بینڈ 660 سے 693 روپے ہے۔ ماہرین کے مطابق جیو کی مضبوط مالی حالت اور ڈیجیٹل شعبے میں امکانات اسے پرکشش بناتے ہیں، جبکہ پارس کے لیے قرض اور سابقہ خسارے اہم خطرات ہیں۔ سرمایہ کاری سے پہلے سرمایہ کاروں کو اپنی مالی صلاحیت اور خطرہ برداشت کرنے کی قوت کا جائزہ لینا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد