ایس پی کا پی ڈی اے پارٹی ہونے کا سیاسی ڈھونگ، قریبیوں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ دیتی ہے: مایا وتی
ایس پی کا پی ڈی اے پارٹی ہونے کا سیاسی ڈھونگ، قریبیوں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ دیتی ہے: مایا وتی ۔ ایس پی کے دوہرے چال چلن اور کردار سے ہوشیار رہنا ضروری لکھنو، 02 اکتوبر (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے سماج وادی پارٹی (
مایا وتی کی فائل فوٹو


ایس پی کا پی ڈی اے پارٹی ہونے کا سیاسی ڈھونگ، قریبیوں اور سرمایہ داروں کو ٹکٹ دیتی ہے: مایا وتی

۔ ایس پی کے دوہرے چال چلن اور کردار سے ہوشیار رہنا ضروری

لکھنو، 02 اکتوبر (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے سماج وادی پارٹی (ایس پی) پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ہمیشہ کی طرح ’پی ڈی اے‘ پارٹی ہونے کا سیاسی ڈھونگ اور فریب کرتی ہے۔ وہ دھنا سیٹھوں (سرمایہ داروں) اور رشتہ داروں کو ہی ٹکٹ دیتی ہے، جبکہ بی ایس پی کمزور طبقات کے محنتی امبیڈکروادی لوگوں کو ہی اپنی پارٹی کا امیدوار بناتی ہے۔

بی ایس پی سربراہ مایا وتی نے جمعہ کے روز ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات سبھی پر عیاں ہے کہ بی ایس پی کسی بھی چھوٹے بڑے انتخابات میں حریف جماعتوں اور خصوصاً سماج وادی پارٹی (ایس پی) کی طرح اپنے خاندان، سگے رشتہ داروں، بھائی بھتیجوں، قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ بالخصوص بڑے بڑے سرمایہ داروں اور دھناسیٹھوں وغیرہ کو ٹکٹ نہیں دیتی ہے۔ یعنی انتخابات میں ان کی دولت اور پیسے کے بل بوتے کا سہارا نہیں لیتی، بلکہ پارٹی میں کام کرنے والے تمام طبقات میں سے محض غریب، درمیانہ طبقہ اور کمزور طبقات کے محنتی امبیڈکروادی لوگوں کو ہی اپنی پارٹی کا امیدوار بناتی ہے۔ باالفاظِ دیگر، بی ایس پی کی سیاست کنبہ پروری اور دھن بل سے پاک و صاف ہے، جبکہ دوسری طرف ایس پی اس کے عین برعکس کام کرتی ہے، جو خود کو سماجوادی اور نام نہاد ’پی ڈی اے‘ کی پارٹی ہونے کا سیاسی ڈھونگ اور فریب کرتی ہے۔

اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ ایس پی نے یوپی سے راجیہ سبھا کے لیے دو سالہ انتخابات میں رام گوپال یادو سے دوبارہ پرچہ نامزدگی داخل کروایا ہے، جو ایس پی سربراہ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہیں، ایس پی نے اپنی پارٹی کا دوسرا امیدوار دھن راج پریمل ناتھوانی کو بنایا ہے، جو ایک معروف صنعتی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوامی رائے میں ایس پی کا تیسرا امیدوار ماضی کی طرح ممکنہ طور پر ’فیس سیونگ‘ (بھرم رکھنے) اور الیکشن ہارنے کے لیے ہوگا۔

مایا وتی نے کہا کہ ایس پی کو انتخابات میں ووٹ تو ’پی ڈی اے‘ کا چاہیے، لیکن رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی وغیرہ زیادہ تر اپنے خاندان والوں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کو بناتی ہے۔ لہٰذا عوام ان کے ’پی ڈی اے‘ کے بہکاوے میں نہ آئیں تو یہی بہتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ایس پی کا اس قسم کا دوہرا چال، چلن، کردار اور چہرہ ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔ اسی لیے بالخصوص ’بہوجن سماج‘ کے لوگوں کو یوپی اسمبلی عام انتخابات سے قبل ہی مکمل طور پر ہوشیار رہنا چاہیے کہ ان سب کا مفاد بی ایس پی ہی میں مضمر اور محفوظ ہے، باقی سب فریب ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande