
ناگویا، 19 اکتوبر (ہ س)۔ ایشیائی پیرا کھیل 2026 میں بھارتی پیرا ایتھلیٹس کی شاندار کارکردگی کا سلسلہ جاری ہے۔ خواتین کے 1500 میٹر ٹی 12/ٹی 13 مقابلے میں بھارت کی سومیا اور رادھا وینکٹیش نے بالترتیب سونا اور چاندی کے تمغے جیت کر ملک کو دوہری کامیابی دلائی۔ سومیا نے اپنے پہلے ہی ایشیائی پیرا کھیل میں ذاتی بہترین وقت کے ساتھ سونے کا تمغہ حاصل کیا، جبکہ تجربہ کار رنر رادھا وینکٹیش نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
کرناٹک کے چامراج نگر ضلع کی رہنے والی سومیا نے اپنے گائیڈ بھرت کمار کے ساتھ دوڑتے ہوئے 5 منٹ 12.39 سیکنڈ کا وقت نکالا۔ انہوں نے 621 پوائنٹس حاصل کرکے سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ وہیں، رادھا وینکٹیش نے اپنے گائیڈ گووند سولنکی کے ساتھ 5 منٹ 30.90 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کی اور 421 پوائنٹس کے ساتھ چاندی کا تمغہ جیتا۔
جاپان کی مانا ساساکی نے 336 پوائنٹس کے ساتھ کانسہ کا تمغہ حاصل کیا۔ انہوں نے 5 منٹ 12.15 سیکنڈ کا وقت نکالا، جو سومیا کے وقت سے بھی بہتر تھا۔ تاہم، پوائنٹس پر مبنی درجہ بندی میں وہ بھارتی کھلاڑیوں سے پیچھے رہیں۔
پہلے ہی مقابلے میں سومیا نے رقم کی تاریخ
سومیا کے لیے یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی خاص ہے کہ انہوں نے ایشیائی پیرا کھیلوں میں اپنے پہلے ہی مقابلے میں سونے کا تمغہ جیت لیا۔ بصارت سے محروم کھلاڑیوں کے ٹی 12 زمرے میں حصہ لینے والی سومیا، بھارتی ایتھلیٹک اکیڈمی میں کوچ روشن اگنی شری دھر بچن کی رہنمائی میں تربیت حاصل کرتی ہیں۔
وہ اس سے پہلے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ سومیا نے 2025 کے ایشیائی یوتھ پیرا کھیلوں میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے 2026 میں نئی دہلی گراں پری اور انڈین اوپن میں بھی سونے کے تمغے حاصل کیے۔ ان کی اس کامیابی سے بھارتی پیرا ایتھلیٹکس میں کرناٹک کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کو نئی پہچان ملی ہے۔
رادھا وینکٹیش نے بھی ملک کا نام روشن کیا
رادھا وینکٹیش نے چاندی کا تمغہ جیت کر اپنے بین الاقوامی تجربے کا ثبوت دیا۔ کرناٹک کے چترادرگ ضلع کے بوماسمندر گاؤں کی رہنے والی رادھا اس سے قبل بھی ایشیائی پیرا کھیلوں میں کئی تمغے جیت چکی ہیں۔
انہوں نے 2018 میں جکارتہ میں منعقدہ ایشیائی پیرا کھیلوں میں خواتین کے 1500 میٹر مقابلے میں سونا اور کانسہ کے تمغے جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ وہ ایک ہی ایڈیشن میں دو تمغے جیتنے والی پہلی بھارتی خاتون بنی تھیں۔ ان کی اس کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ستائش کی تھی۔
رادھا نے ہانگژو میں منعقدہ 2022 کے ایشیائی پیرا کھیلوں میں بھی سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ تاہم، اس ایڈیشن میں شرکا کی تعداد کم ہونے کے باعث متعلقہ مقابلے کو غیر تمغہ مقابلے کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ انڈین اوپن، شارجہ اوپن اور عالمی پیرا ایتھلیٹکس گراں پری میں بھی تمغے جیت چکی ہیں۔
رادھا نے نابینا افراد کو تعلیم فراہم کرنے والے چکمگلورو کے آشا کرن اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ بھارتی اسپورٹس اتھارٹی کے کوچ راہل بال کرشن نے قومی مقابلے کے دوران ان کی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بعد 2017 میں انہیں پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بنگلورو بلایا تھا۔ کھیلوں میں ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرناٹک حکومت نے انہیں محکمہ محنت میں ملازمت بھی دی ہے۔
سومیا اور رادھا کی اس کامیابی سے ایشیائی پیرا کھیلوں میں بھارت کے تمغوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے شاندار مظاہرہ کرکے بھارتی پیرا ایتھلیٹکس کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی