

نئی دہلی، 19 اکتوبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے پیر کو کہا کہ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) 20 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا۔ اس معاہدے کے تحت چمڑے، جوتے چپل، ملبوسات اور ٹیکسٹائل جیسے محنت پر مبنی شعبوں کی ہندوستان کی کئی مصنوعات پر نیوزی لینڈ میں درآمدی ڈیوٹی صفر ہوجائے گی۔
یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گوئل نے بتایا کہ 27 اپریل کو دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت منگل سے نیوزی لینڈ کو ہندوستان کی تمام برآمدات پر ڈیوٹی سے پاک رسائی حاصل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ آئندہ 15 برسوں کے دوران نیوزی لینڈ سے ہندوستان میں 20 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ ان کے مطابق، اس معاہدے سے ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
مرکزی وزیر تجارت و صنعت نے تجارتی معاہدے کے تحت نیوزی لینڈ برآمد کیے جانے والے جے سی بی انڈیا کے چھوٹے ایکسکیویٹر کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی ہندوستان میں اپنی مجموعی پیداوار کا 25 فیصد مختلف ممالک کو برآمد کرتی ہے۔ گوئل نے کہا، ”میں انہیں اسے بڑھا کر 50 فیصد کرنے کا ہدف دے رہا ہوں۔ نیوزی لینڈ اب ان کے لیے برآمدات کی 140ویں منزل بن گیا ہے۔“
گوئل نے کہا کہ یہ معاہدہ زرعی پیداوار کے شعبے میں شراکت داری کو بھی فروغ دے گا۔ اس کے تحت نیوزی لینڈ کی ٹیکنالوجی کو ہندوستان کے وسیع پیمانے اور بڑھتی ہوئی مانگ کے مطابق استعمال کیا جاسکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈیری مصنوعات، پیاز، چنا، مٹر، مکئی، بادام، مصنوعی شہد اور چینی جیسے حساس شعبوں کو اس تجارتی معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد