الیزندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے شنگھائی ماسٹرز کا خطاب جیت لیا
رافیل جوڈار کو تین سیٹوں کے سنسنی خیز فائنل میں شکست، کیریئر کا پہلا ماسٹرز 1000 خطاب اپنے نام کیاشنگھائی، 18 اکتوبر (ہ س)۔ اسپین کے الیزندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے اتوار کو شاندار واپسی کرتے ہوئے شنگھائی ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا۔ انہوں نے ا
الیزندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے شنگھائی ماسٹرز کا خطاب جیت لیا


رافیل جوڈار کو تین سیٹوں کے سنسنی خیز فائنل میں شکست، کیریئر کا پہلا ماسٹرز 1000 خطاب اپنے نام کیاشنگھائی، 18 اکتوبر (ہ س)۔ اسپین کے الیزندرو ڈیوڈووچ فوکینا نے اتوار کو شاندار واپسی کرتے ہوئے شنگھائی ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا۔ انہوں نے اسپین ہی کے رافیل جوڈار کو تین سیٹوں پر مشتمل سنسنی خیز فائنل میں 1-6، 7-6 (5)، 6-4 سے شکست دے کر اپنے کیریئر کا پہلا ماسٹرز 1000 خطاب حاصل کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کے درمیان یہ مقابلہ دو گھنٹے 28 منٹ تک جاری رہا۔

27 سالہ ڈیوڈووچ فوکینا ایک وقت ایک سیٹ اور ایک بریک سے پیچھے تھے، لیکن انہوں نے صبر اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلے میں واپسی کی۔ پہلے سیٹ میں 1-6 سے شکست کے بعد انہوں نے دوسرا سیٹ ٹائی بریکر میں جیت کر مقابلہ برابر کیا اور فیصلہ کن سیٹ میں بھی برتری برقرار رکھتے ہوئے خطاب اپنے نام کرلیا۔عالمی درجہ بندی میں 26ویں مقام پر موجود ڈیوڈووچ فوکینا اپنے کیریئر کے ابتدائی پانچ ٹور سطح کے فائنل ہار گئے تھے، لیکن اب وہ مسلسل تین فائنل جیت چکے ہیں۔ اس سیزن میں انہوں نے اس سے قبل مایورکا اور چینگدو میں اے ٹی پی 250 ٹورنامنٹ کے خطاب بھی جیتے تھے۔ کمر کی چوٹ کے باعث دو ماہ تک کورٹ سے دور رہنے کے بعد انہوں نے چینگدو میں واپسی کی تھی۔

شنگھائی تک ڈیوڈووچ فوکینا کا سفر بھی کافی مشکل رہا۔ تیسرے راؤنڈ میں انہوں نے امریکہ کے فرانسس ٹیافو کے خلاف میچ پوائنٹ بچایا۔ اس کے بعد پولینڈ کے ہوبرٹ ہورکاچ اور ٹاپ سیڈ جرمنی کے الیگزینڈر زیوریف کو ایک سیٹ سے پیچھے ہونے کے باوجود شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی۔کیژونگ فاریسٹ اسپورٹس سٹی ایرینا میں کھیلے گئے فائنل میں 20 سالہ جوڈار نے جارحانہ آغاز کیا۔ انہوں نے دوسرے اور چھٹے گیم میں ڈیوڈووچ فوکینا کی سروس توڑ کر پہلا سیٹ 6-1 سے جیت لیا۔

دوسرے سیٹ میں بھی جوڈار نے 3-2 کی برتری حاصل کرلی، لیکن ڈیوڈووچ فوکینا نے فوری واپسی کرتے ہوئے ان کی سروس توڑ دی۔ جوڈار کو دوبارہ برتری حاصل کرنے کے لیے پانچ بریک پوائنٹس ملے، لیکن ڈیوڈووچ فوکینا نے دباؤ میں بہترین کھیل پیش کیا اور ٹائی بریکر میں سیٹ جیت کر مقابلہ فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا دیا۔

تیسرے سیٹ کے آغاز میں دونوں کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کی سروس توڑی۔ اس کے بعد ڈیوڈووچ فوکینا نے پانچویں گیم میں اہم بریک حاصل کیا اور اپنی سروس برقرار رکھتے ہوئے خطاب جیت لیا۔خطاب جیتنے کے بعد ڈیوڈووچ فوکینا نے کہا، ’’اس وقت میرے پاس کہنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ میرا ذہن بالکل خالی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا کہوں اور میں کیسا محسوس کررہا ہوں۔ یہ میرے لیے بہت بڑی راحت ہے۔ پہلے سیٹ کے بعد مجھے مسلسل کوشش جاری رکھنی تھی اور دباؤ برقرار رکھنا تھا، جیسا کہ میں نے پورے ٹورنامنٹ میں ہر مقابلے کے دوران کیا۔ ٹائی بریکر میں بھی میں نے خود پر بھروسہ کیا اور گیند پر توجہ مرکوز رکھی۔ وہ شاندار ٹینس کھیل رہا تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’تیسرے سیٹ میں جسمانی طور پر میری فٹنس شاید کچھ بہتر تھی۔ وہ ایک بہترین کھلاڑی ہے اور آج اس کے خلاف کھیلنا انتہائی مشکل رہا۔‘‘

اس خطاب کے ساتھ ڈیوڈووچ فوکینا کو اے ٹی پی عالمی درجہ بندی میں دوبارہ ٹاپ 20 میں جگہ بنانے میں مدد ملے گی۔ گزشتہ سال نومبر میں وہ اپنے کیریئر کی بہترین 14ویں عالمی رینکنگ تک پہنچے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande