
نئی دہلی، 18 اکتوبر (ہ س)۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (کیٹ) کے قومی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے اتوار کو کہا کہ قومی راجدھانی دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث گزشتہ 10 دنوں کے دوران تاجروں کو تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
نئی دہلی میں گزشتہ کئی دنوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کھنڈیلوال نے کہا کہ اگر بازاروں میں یہ خلل طویل عرصے تک برقرار رہا تو دہلی میں روزانہ 400 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی میں روزانہ اوسطاً تقریباً 2,200 کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ ایسے میں دارالحکومت کا وسیع تجارتی نظام کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ان کے اندازے کے مطابق، 10 دنوں کے اندر کاروباری نقصان تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
آئینی حدود کا حوالہ دیتے ہوئے کھنڈیلوال نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 19(1)(اے) کے تحت شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی اور آرٹیکل 19(1)(بی) کے تحت پُرامن اجتماع کا بنیادی حق حاصل ہے۔ تاہم، آرٹیکل 19(1)(جی) ہر شہری کو اپنی پسند کا کاروبار، پیشہ اور ذریعۂ معاش اختیار کرنے کا حق بھی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری حقوق کے استعمال کے دوران دوسرے شہریوں اور تاجروں کے جائز حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی ایک بنیادی حق کا استعمال دوسروں کی روزی روٹی کے لیے بحران نہیں بننا چاہیے۔ پُرامن احتجاج کا حق برقرار رہنا چاہیے، لیکن عام لوگوں، تاجروں اور مزدوروں پر بلاوجہ معاشی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔
کھنڈیلوال کے مطابق، احتجاجی تحریکوں کے اثرات صرف مظاہروں کے مقامات تک محدود نہیں رہتے۔ سڑکوں پر طویل ٹریفک جام، گاہکوں کی آمدورفت میں کمی، سامان کی ترسیل میں رکاوٹ اور کاروباری اوقات میں کمی سے پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی پٹری والوں پر پڑتا ہے، جنہیں فروخت متاثر ہونے کے باوجود دکان کا کرایہ، ملازمین کی تنخواہیں، بجلی کے بل اور بینک کی قسطیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔
کھنڈیلوال نے کہا کہ اکتوبر سے جنوری تک ملک بھر میں خریداری اور کاروباری سرگرمیاں عروج پر رہتی ہیں۔ دہلی شمالی ہندوستان کا سب سے بڑا تھوک اور تقسیم کا مرکز ہے۔
انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ متوازن رویہ اختیار کریں، تاکہ جمہوری اظہار کی آزادی بھی برقرار رہے اور تہواروں و شادیوں کے موسم میں دہلی کے کاروبار اور عام لوگوں کے روزگار کا بھی تحفظ کیا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد