
نئی دہلی، 16 اکتوبر(ہ س)۔
آسام کی نوجوان ٹیبل ٹینس کھلاڑی دیویجا پال نے پنچکولہ میں 6 سے 13 اکتوبر تک منعقدہ قومی رینکنگ ٹیبل ٹینس چمپئن شپ کے انڈر 13 لڑکیوں کے زمرے میں کانسہ کا تمغہ جیتا ہے۔ اس مقابلے میں تمغہ حاصل کرنے والی دیویجا، اڈانی اسپورٹس لائن کی ’فخر ہے‘ پہل سے وابستہ نئی کھلاڑی ہیں۔ وہ اس وقت ہندوستان کے انڈر 13 زمرے میں پہلی پوزیشن پر ہیں۔دیویجا کی یہ کامیابی فلپائن میں منعقدہ ڈبلیو ٹی ٹی یوتھ کنٹینڈر پورٹو پرنسسا 2026 میں انڈر 13 انفرادی زمرے کاسونے کا تمغہ جیتنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے 2025 اور 2026 میں وڈودرا میں منعقدہ ڈبلیو ٹی ٹی یوتھ کنٹینڈر مقابلوں میں بھی انڈر 11 اور انڈر 13 زمرے میں سونے کے تمغے جیتے تھے۔
پنچکولہ دیویجا کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ سال 2023 میں اسی شہر میں انہوں نے انڈر 11 زمرے کی قومی چمپئن شپ کا خطاب جیتا تھا۔ دیویجا کے مطابق، اسی کامیابی نے انہیں ٹیبل ٹینس میں پیشہ ورانہ کریئر بنانے کی ترغیب دی۔
آسام کے سیلچر میں پیدا ہونے والی دیویجا نے چھ سال کی عمر میں ٹیبل ٹینس کھیلنا شروع کیا تھا۔ ایک مقامی کلب ٹورنامنٹ میں اپنے چچا زاد بھائی کو کھیلتے دیکھ کر ان کی اس کھیل میں دلچسپی بڑھی۔ ان کے والد دیبیندو پال بی ایس این ایل میں ملازم ہیں، جبکہ والدہ دیپ شیکھا پال سرکاری اسکول میں معلمہ ہیں۔ دیویجا سلچر میں واقع کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس) کے اسکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ ہیں۔
دیویجا نے 2025 میں دہلی میں منعقدہ یو ٹی ٹی قومی رینکنگ ٹیبل ٹینس چمپئن شپ کے انڈر 13 زمرے کا خطاب جیتا تھا۔ اسی سال گجرات کے گاندھی دھام میں منعقدہ یو ٹی ٹی قومی ٹیبل ٹینس چمپئن شپ میں انہوں نے انڈر 13 ڈبلز زمرے کا خطاب بھی اپنے نام کیا تھا۔
ہندوستان کے انڈر 13 زمرے میں سرفہرست مقام حاصل کرنے والی دیویجا چین کی معروف ٹیبل ٹینس کھلاڑی سن ینگ شا کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں۔ وہ خاص طور پر سن ینگ شا کے کھیلنے کے انداز اور ان کے شاٹس میں نظر آنے والے اعتماد سے متاثر ہیں۔
آنے والے مہینوں میں دویجا چنئی میں منعقد ہونے والی ڈبلیو ٹی ٹی یوتھ کنٹینڈر چمپئن شپ میں حصہ لیں گی۔ اس کے بعد وہ جالندھر میں ہونے والی یو ٹی ٹی قومی رینکنگ چمپئن شپ میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔
’فخر ہے‘ پہل کے تحت اڈانی اسپورٹس لائن سے وابستہ ہونے کے بعد دیویجا کو عالمی معیار کے کھیلوں کے آلات، قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے سفر اور جسمانی طاقت و فٹنس بہتر بنانے کی تربیت جیسی سہولتوں میں مدد ملے گی۔اس تعاون کا مقصد دویجا کے ابتدائی کریئر میں درپیش اہم مشکلات کو کم کرنا اور انہیں کھیل میں آگے بڑھنے کے لیے بہتر وسائل فراہم کرنا ہے۔ دویجا کا آخری ہدف مستقبل میں ہندوستان کے لیے اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنا ہے۔
اپنی کامیابی پر دویجا پال نے کہا، ’’پنچکولہ وہ جگہ ہے جہاں میں نے اپنا پہلا قومی خطاب جیتا تھا۔ اس لیے یہاں واپس آکر پوڈیم پر جگہ بنانا میرے لیے انتہائی خاص ہے۔ میں ایک قدم اور آگے بڑھنا چاہتی تھی، لیکن کانسہ کا تمغہ جیت کر بھی خوش ہوں۔ میں نے جو بھی مقابلے کھیلے، ان سے سیکھنے کی کوشش کروں گی۔‘‘
اڈانی اسپورٹس لائن سے ملنے والی مدد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’یہ تعاون میرے لیے کتنا اہم ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میرے سامنے سب سے بڑے چیلنجوں میں اچھے معیار کے آلات، ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے سفر اور مناسب جسمانی طاقت و فٹنس کی تربیت حاصل کرنا شامل تھا۔ میرے والدین اور کوچوں نے میرے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ان مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ میری توجہ اب چنئی اور جالندھر میں ہونے والے مقابلوں پر ہے۔‘‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan