
- شہر میں 27 اکتوبر سے 2 نومبر تک ’ہیرو ایشین چیمپئنز ٹرافی پنجاب‘ کے لیگ مرحلے کے میچ کھیلے جائیں گے۔
نئی دہلی، 16 اکتوبر (ہ س)۔
ہندوستان میں بہت کم ایسے شہر ہیں جن کا ہاکی سے جالندھر جیسا گہرا اور قدیم رشتہ ہے۔ یہاں کے دیہات سے کئی نسلوں تک اولمپک کھلاڑی سامنے آتے رہے ہیں۔ پنجاب 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک ’ہیرو ایشین چیمپئنز ٹرافی‘ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ اس دوران جالندھر ایشیا کے اہم ہاکی ممالک کی ٹیموں کا استقبال کرے گا۔ اس ٹورنامنٹ کے ذریعے اس خطے میں بین الاقوامی ہاکی کی واپسی ہو رہی ہے، جس نے ہندوستانی ہاکی کے سفر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
برلٹن پارک میں واقع ’اولمپین سرجیت سنگھ ہاکی اسٹیڈیم‘ اس باوقار ٹورنامنٹ کے دو مقامات میں سے ایک ہوگا۔ یہاں 27 اکتوبر سے 2 نومبر تک لیگ مرحلے کے تمام میچ کھیلے جائیں گے۔ دوسرا مقام موہالی کا ’اولمپین بل بیر سنگھ سینئر انٹرنیشنل ہاکی اسٹیڈیم‘ ہوگا، جہاں 4 اور 5 نومبر کو سیمی فائنل اور تمغوں کے لیے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
تقریباً 7 ہزار تماشائیوں کی گنجائش والا جالندھر کا یہ اسٹیڈیم گزشتہ چند برسوں کے دوران ہاکی کے کئی اہم ٹورنامنٹس کا گواہ رہا ہے۔ یہ اس شہر کی کھیلوں سے وابستہ شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔
ہندوستان کی 1975 کے عالمی کپ کی فاتح ٹیم کے رکن سرجیت سنگھ کے نام سے موسوم یہ اسٹیڈیم ملک کی ہاکی تاریخ کی ایک عظیم شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ 1984 میں قائم ہونے والی ’سرجیت ہاکی سوسائٹی‘ نے اس وراثت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ سوسائٹی ’سرجیت ہاکی اکیڈمی‘ اور ہر سال منعقد ہونے والے ’سرجیت میموریل ہاکی ٹورنامنٹ‘ کے ذریعے کھیل کی ترقی میں مسلسل تعاون کر رہی ہے۔
صرف اسٹیڈیم ہی نہیں، بلکہ جالندھر کے آس پاس کے دیہات کا بھی یہاں کی ہاکی کی تاریخ میں بہت بڑا کردار ہے۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ شہر کے مضافات میں واقع سنسارپور کا نام ہاکی کی تاریخ میں درج ہے، کیونکہ یہاں سے کئی ایسے اولمپک کھلاڑی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں ہندوستان اور کینیا کی نمائندگی کی ہے۔
اس کے قریب واقع میٹھاپور نے بھی ہندوستانی ہاکی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں سے پرگٹ سنگھ جیسے نامور کھلاڑیوں کے علاوہ موجودہ بین الاقوامی کھلاڑی من پریت سنگھ اور مندیپ سنگھ سمیت کئی مشہور کھلاڑی سامنے آئے ہیں۔
سرجیت ہاکی اکیڈمی اس روایت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ اکیڈمی دیہات سے نکل کر کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کے خواہش مند نوجوان کھلاڑیوں کو منظم تربیت اور ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ایشین چیمپئنز ٹرافی 2026 کی ٹیم میں شامل چھ کھلاڑی، من پریت سنگھ، ہرمَن پریت سنگھ، مندیپ سنگھ، کرشن پاٹھک، دل پریت سنگھ اور جرمن پریت سنگھ، اسی سرجیت ہاکی اکیڈمی کی تربیت یافتہ ہیں۔
کھیل کے میدان کے علاوہ بھی جالندھر کی ایک خاص شناخت ہے۔ یہ شہر ہندوستان میں کھیلوں کا سامان تیار کرنے والے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کھیلوں کے سامان کی صنعت کا آغاز 1940 کی دہائی کے آخری برسوں میں چھوٹے پیمانے پر ہوا تھا، جو بعد کی دہائیوں میں کافی پھیل گئی۔
آج یہاں کے صنعت کار ملک بھر کی منڈیوں میں کھیلوں کا سامان فراہم کرتے ہیں اور کئی بیرونی ممالک کو بھی اپنی مصنوعات برآمد کرتے ہیں۔ کھیلوں کا سامان تیار کرنے کی یہ پرانی روایت، کھلاڑیوں کی تربیت اور ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے میں شہر کے کردار کو مزید اہم بناتی ہے۔
’ہیرو ایشین چیمپئنز ٹرافی پنجاب 2026‘ جالندھر کی ان مختلف خصوصیات کو ایک ساتھ سامنے لائے گی۔ اس سے شہر کے لوگوں کو اپنے ہی شہر میں اعلیٰ معیار کی بین الاقوامی ہاکی دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اولمپین سرجیت سنگھ ہاکی اسٹیڈیم میں ایشیا کی بہترین ٹیمیں ایک دوسرے کو چیلنج کریں گی۔
یہ ٹورنامنٹ شہر کی کھیلوں کی وراثت اور ہندوستانی ہاکی میں اس کے مسلسل اہم کردار کا ایک بڑا جشن ثابت ہوگا۔
جالندھر کے لیے یہ موقع محض ایک بین الاقوامی ٹورنامنٹ کی میزبانی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ شائقین کی نئی نسل کو اس کھیل سے دوبارہ جوڑنے کا موقع بھی ہے، جس نے کئی دہائیوں سے اس شہر کی شناخت تشکیل دی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ