
ممبئی/کولمبو، 16 اکتوبر(ہ س)۔
کرکٹ کی تقریباً 150 سالہ تاریخ میں پہلی بار لڑکیوں اور لڑکوں کے بنائے گئے رنز مل کر ایک ہی ٹیم کی جیت اور ہار کا فیصلہ کریں گے۔ کرکٹ کے نئے فارمیٹ ’ٹیسٹ 20‘ کا پہلا سیزن 14 سے 29 نومبر 2026 تک سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں واقع سنہالیز اسپورٹس کلب (ایس ایس سی) کے میدان پر منعقد ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ میں دنیا بھر سے 13 سے 21 سال کی عمر کے 160 نوجوان کرکٹرز حصہ لیں گے۔ مقابلوں کا براہ راست ٹیلی کاسٹ سونی اسپورٹس نیٹ ورک پر کیا جائے گا۔
ٹیسٹ 20 کو کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک کرکٹ میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20 فارمیٹس رائج رہے ہیں۔ اس نئے فارمیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ ہر ٹیم کی جانب سے لڑکیوں اور لڑکوں کی الگ الگ ٹیمیں میدان میں اتریں گی، لیکن دونوں کے بنائے گئے رنز کو ایک ہی اسکور میں شامل کیا جائے گا۔ میچ کا فیصلہ دونوں ٹیموں کے مشترکہ اسکور کی بنیاد پر ہوگا۔
منتظمین کے مطابق، اس ٹورنامنٹ کا مقصد لڑکیوں اور لڑکوں کو ایک مشترکہ ٹیم کے لیے کھیلنے کا موقع فراہم کرنا اور نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک نیا عالمی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔
ٹیسٹ20 کا ہر مقابلہ ایک ہی دن میں کھیلا جائے گا۔ اس میں ہر ٹیم کو دو مرتبہ بیٹنگ کا موقع ملے گا اور مجموعی طور پر 80 اوورز کا کھیل ہوگا۔ ابتدائی 40 اوورز دن میں سرخ گیند اور سفید لباس میں کھیلے جائیں گے، جبکہ آخری 40 اوورز رنگین لباس میں سفید گیند کے ساتھ ایس ایس سی میدان کی فلڈ لائٹس میں ہوں گے۔
اس فارمیٹ میں ایک ہی میچ کے دوران سرخ اور سفید، دونوں گیندوں کا استعمال کیا جائے گا۔ پہلے سیشن میں بنائے گئے رنز دوسرے سیشن میں بھی مجموعی اسکور کا حصہ رہیں گے۔ یعنی دن میں بنایا گیا ہر رن رات کے کھیل میں بھی ٹیم کے نتیجے پر اثر انداز ہوگا۔ مقابلے کا فیصلہ اسی دن مشترکہ اسکور کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ٹیسٹ 20 کے چار براعظمی دستوں میں سے ہر ایک میں 40 کھلاڑی ہوں گے، جن میں 20 لڑکیاں اور 20 لڑکے شامل ہوں گے۔ ہر مقابلے میں لڑکیوں کی ٹیم دوسری ٹیم کی لڑکیوں کے خلاف اور لڑکوں کی ٹیم دوسری ٹیم کے لڑکوں کے خلاف کھیلے گی۔ تاہم، دونوں کے انفرادی اسکور کو جوڑ کر ہی ٹیم کا حتمی اسکور تیار کیا جائے گا۔
اس فارمیٹ میں ’پیریٹی رول‘ یعنی مساوات کا اصول نافذ ہوگا۔ ٹاس کے ذریعے طے کیا جائے گا کہ کون سی ٹیم پہلے بیٹنگ کرے گی اور اس کی جانب سے پہلے لڑکیوں کی ٹیم میدان میں اترے گی یا لڑکوں کی۔دن کے سیشن میں لڑکیوں کے بنائے گئے رنز رات کے سیشن میں لڑکوں کی جیت یا ہار پر اثر انداز ہوں گے۔ اسی طرح، رات کے کھیل میں لڑکوں کے بنائے گئے رنز بھی مشترکہ نتیجے میں شامل ہوں گے اور لڑکیوں کی کارکردگی کے ساتھ مل کر ٹیم کی جیت کا فیصلہ کریں گے۔
اس نظام کے تحت لڑکیوں کا مقابلہ محض مرکزی میچ سے پہلے ہونے والی سرگرمی نہیں ہوگا، بلکہ ان کے رنز ٹیم کے حتمی نتیجے میں نصف حصے کے تعین میں حصہ ڈالیں گے۔ لڑکیاں اور لڑکے پورا دن ایک ہی ٹیم کے ڈگ آؤٹ میں ساتھ بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کی کارکردگی پر نظر رکھیں گے، کیونکہ دونوں کی کامیابی مشترکہ اسکور سے جڑی ہوگی۔
منتظمین نے اس نئے فارمیٹ کے پہلے سیزن کی میزبانی کے لیے سری لنکا کا انتخاب کیا ہے۔ ملک میں اسکولی کرکٹ کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ رائل تھومین کرکٹ مقابلہ پہلی بار 1879 میں کھیلا گیا تھا اور رواں سال مارچ میں اس کا 147 واں ایڈیشن ایس ایس سی میدان پر منعقد ہوا۔
سری لنکا نے عالمی کرکٹ کو سنتھ جے سوریہ، متھیا مرلی دھرن، کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردھنے جیسے عظیم کھلاڑی دیے ہیں۔ 2006 میں ایس ایس سی میدان پر سنگاکارا اور جے وردھنے نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی شراکت قائم کرتے ہوئے 624 رنز بنائے تھے۔منتظمین کا ماننا ہے کہ سری لنکا میں اسکولی کرکٹ کے لیے جوش و خروش اور نوجوان کھلاڑیوں کو ملنے والی حمایت اس نئے فارمیٹ کے لیے ملک کو ایک موزوں میزبان بناتی ہے۔ ٹیسٹ 20 کے ذریعے سری لنکا کو اس عالمی نوجوان کرکٹ فارمیٹ کا بانی مرکز بنانے کا منصوبہ ہے۔
ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے پانچ براعظموں سے ہزاروں نوجوان کرکٹرز نے اپنی دعویداری پیش کی۔ گزشتہ 300 دنوں کے دوران میدان اور آن لائن منعقد ہونے والے انتخابی مراحل کے ذریعے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔عالمی سلیکشن کمیٹی نے ان کھلاڑیوں میں سے بہترین صلاحیتوں کا انتخاب کیا ہے۔ کمیٹی کی سربراہی ہندوستان کے کوچ راج کمار شرما کر رہے ہیں، جنہیں وراٹ کوہلی کی ابتدائی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کے کرکٹ کیریئر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔رواں ماہ کے آخر میں ہونے والے پلیئرز ڈرافٹ کے ذریعے حتمی 160 کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ ان میں 80 لڑکیاں اور 80 لڑکے شامل ہوں گے۔ یہی کھلاڑی ٹیسٹ ٹوئنٹی کے پہلے سیزن میں حصہ لیں گے۔
ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب 14 نومبر کو ہوگی، جبکہ فائنل 29 نومبر کو کھیلا جائے گا۔ 30 نومبر کو متبادل دن کے طور پر رکھا گیا ہے۔ تمام مقابلوں کا براہ راست ٹیلی کاسٹ سونی اسپورٹس نیٹ ورک پر ہوگا۔ منتظمین کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹوں میں ٹی وی نشریاتی اداروں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے لیے بھی عالمی نشریاتی فیڈ دستیاب کرائی جائے گی۔
ٹیسٹ20 کے مشاورتی بورڈ میں جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرز، آسٹریلیا کے سابق اوپنر میتھیو ہیڈن اور ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان سر کلائیو لائیڈ شامل ہیں۔عالمی سلیکشن کمیٹی کی سربراہی راج کمار شرما کر رہے ہیں، جبکہ انتظامی امور کی ذمہ داری مائیک فورڈہم سنبھال رہے ہیں۔ شریک بانی روہت مارو کاروباری حکمت عملی کی قیادت کر رہے ہیں۔منتظمین کے مطابق، اس منصوبے سے ایسے افراد وابستہ ہیں جنہیں کرکٹ کھیلنے، کوچنگ اور اعلیٰ سطح پر کھیلوں کے انتظامی امور کا تجربہ حاصل ہے۔ اس کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جہاں انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل سکے۔
ٹیسٹ 20 کے بانی اور ’پیریٹی رول‘ کے تخلیق کار گورو بہیرواَنی نے کہا کہ یہ پہل اب محض ایک خیال نہیں رہی، بلکہ نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک نئے فارمیٹ اور نئی عالمی مسابقتی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’ایک سال پہلے اسی ہفتے میں نے اے بی، میتھیو، سر کلائیو، مائیک اور روہت کے ساتھ ٹیسٹ 20 کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس وقت یہ کاغذ پر ایک خیال تھا اور دنیا بھر کے نوجوان کرکٹرز سے ایک وعدہ تھا کہ انہیں اپنا فارمیٹ، اپنا ٹورنامنٹ اور اپنے گرد تیار کیا گیا ایک مکمل نظام ملے گا۔ 14 نومبر کو یہ وعدہ پہلی بار کولمبو کے ایس ایس سی میدان پر پورا ہوگا۔‘‘
مساوات کے تصور پر زور دیتے ہوئے بہیرواَنی نے کہا، ’’مساوات صرف قواعد یا کھیلنے کے طریقے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نشریات میں بھی اس کا خیال رکھا گیا ہے۔ بعض شاموں میں لڑکیاں فلڈ لائٹس کے نیچے پرائم ٹائم میں دنیا کے سامنے کھیلیں گی، جبکہ دوسری شاموں میں لڑکے کھیلیں گے۔ لیکن ہر شام اسکور بورڈ ایک ہی ہوگا۔‘‘
سری لنکا کو میزبان منتخب کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’ہمیں اس کے لیے صحیح جگہ مل گئی ہے۔ سری لنکا میں اسکولی کرکٹ کے مقابلے دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھر جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی دوسرا ملک اس جزیرے کی طرح اپنے نوجوان کرکٹرز سے محبت نہیں کرتا۔ ہماری پہلی میٹنگ سے ہی سری لنکا کرکٹ کی قیادت نے ہماری حمایت کی اور ہماری حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد ایس ایس سی کے صدر اور کمیٹی نے دنیا کے ہر کونے سے آنے والے نوجوان کرکٹرز کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ ہم سب کے شکر گزار ہیں۔‘انہوں نے مزید کہا، ’’کھیلوں کی تاریخ میں پہلی بار لڑکیاں اور لڑکے مل کر جیتیں گے یا مل کر ہاریں گے۔ اب یہ تاریخی لمحہ سری لنکا کا ہوگا۔ ہم سب کولمبو جا رہے ہیں۔‘
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan