
نئی دہلی، 15 اکتوبر (ہ س)۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھارتی معیشت کے حساب و کتاب کے طریقۂ کار کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے حساب کے نظرثانی شدہ طریقۂ کار عالمی بہترین معیارات کے مطابق ہیں اور آئی ایم ایف کے مشوروں سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔
آئی ایم ایف کے شعبۂ ایشیا و بحرالکاہل کے ڈائریکٹر کرشنا سری نواسن نے جمعرات کو بینکاک میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں جی ڈی پی کے بنیادی سال میں تبدیلی ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے جی ڈی پی کے حسابی طریقۂ کار میں کی گئی تبدیلیوں کی وضاحت کے لیے ایک نوٹ بھی جاری کیا ہے۔
سری نواسن نے کہا کہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار تیار کرنے کے سلسلے میں بھارت نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ بہترین طریقۂ کار کے عین مطابق ہیں۔ اس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، تاہم جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو مزید بہتر بنانے کے لیے وزارتِ شماریات و پروگرام نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی جانب سے کیے گئے اچھے کام کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’ایشیا و بحرالکاہل کے خطے کا علاقائی اقتصادی منظرنامہ‘ میں بھارت کو ان ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل کیا گیا ہے، جن کی کرنسیوں پر توانائی کے بحران کے بعد دباؤ پڑا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ دباؤ کسی حد تک کم ہوا ہے۔ رپورٹ میں بھارت کو ان معیشتوں میں بھی شمار کیا گیا ہے، جنہوں نے زرمبادلہ کی منڈی میں مداخلت کی۔
دراصل، بھارتی حکومت کی جانب سے ستمبر میں جاری کیے گئے اپریل تا جون سہ ماہی کے جی ڈی پی نمو کے اعداد و شمار پر سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو توقعات سے بہتر 7.8 فیصد رہی تھی۔
سابق مالیاتی سکریٹری ایس سی گرگ نے ان اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ سال کے اعداد و شمار کو کم کرکے جی ڈی پی کی شرح نمو کو مصنوعی طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔
اس کے جواب میں ملک کے چیف اقتصادی مشیر وی اننت ناگیشورن نے گرگ کے طریقۂ کار کو اعداد و شمار میں سے اپنی سہولت کے مطابق منتخب معلومات پیش کرنے کا رویہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جی ڈی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار تیار کرنے کے لیے مارچ 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کو نیا بنیادی سال مقرر کیا گیا ہے۔ طریقۂ کار میں تبدیلی کے باعث گزشتہ سال کے سہ ماہی اعداد و شمار میں بھی نظرثانی کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی