
۔ کرون نائر نے رنجی ٹرافی میں اپنی 20ویں سنچری مکمل کی
وجے واڑہ، 14 اکتوبر (ہ س)۔ کرناٹک کے تجربہ کار بلے باز کرون نائر نے آندھرا کے خلاف رنجی ٹرافی کے مقابلے میں پہلی اننگز کی ناکامی سے ابھرتے ہوئے شاندار سنچری بنائی۔ بدھ کے روز پہلی اننگز میں محض آٹھ رن بنانے والے 34 سالہ نائر نے دوسری اننگز میں عمدہ بلے بازی کرتے ہوئے رنجی ٹرافی میں اپنی 20ویں سنچری مکمل کی۔
نائر نے اپنی فارم حاصل کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے اسپن گیند باز سوربھ اور للت موہن کے خلاف شاندار چھکے لگائے۔ انہوں نے گیند کو سیدھا باو¿نڈری کے پار پہنچا کر اپنے جارحانہ انداز کا مظاہرہ کیا۔ پہلی اننگز میں کم اسکور بنانے کے بعد ان کی یہ سنچری ان کی بلے بازی کی صلاحیت کا بہترین مثال رہی۔
دلیپ ٹرافی میں نہیں ملا تھا موقع
گزشتہ چند ماہ کرون نائر کے لیے اتار چڑھاؤ سے بھرے رہے ہیں۔ انہیں 2026 کی دلیپ ٹرافی کے سیمی فائنل اور فائنل، دونوں مقابلوں کے لیے ٹیم میں جگہ نہیں ملی تھی۔ اس کے بعد وہ بنگلورو واپس آئے اور رنجی ٹرافی سیزن کی تیاری کے لیے کرناٹک کے روایتی ریڈ بال ٹورنامنٹ تھمیا پیا ٹرافی میں کے ایس سی اے سکریٹری الیون کی جانب سے کھیلے۔
آندھرا کے خلاف بنائی گئی یہ سنچری گھریلو کرکٹ میں مسلسل رن بنانے کی کوشش میں ان کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ وہ گزشتہ سال ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں شاندار واپسی کے بعد اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
انگلینڈ دورے پر ٹیسٹ ٹیم میں ہوئی تھی واپسی
نائر نے گزشتہ سال انگلینڈ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ہندوستانی ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ ہندوستان نے یہ سیریز 2-2 سے برابر کی تھی۔ چند ماہ پہلے تک ان کی ٹیم میں واپسی مشکل نظر آ رہی تھی، لیکن گھریلو کرکٹ میں مسلسل بہترین کارکردگی کی بدولت انہیں دوبارہ قومی ٹیم میں جگہ ملی۔
25-2024 کے سیزن میں ودربھ کی جانب سے کھیلتے ہوئے نائر نے رنجی ٹرافی میں 863 رن بنائے تھے۔ اس دوران ان کی اوسط 53.93 رہی اور ودربھ نے خطاب اپنے نام کیا۔ وجے ہزارے ٹرافی میں بھی ان کی کارکردگی شاندار رہی تھی۔ انہوں نے آٹھ اننگز میں پانچ سنچریاں بنائیں اور 389.50 کی غیر معمولی اوسط سے رن اسکور کیے۔
گھریلو کرکٹ میں ان شاندار کارکردگیوں نے سلیکٹروں کی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی اور انہیں ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کا موقع ملا۔ آندھرا کے خلاف تازہ سنچری کے ساتھ نائر نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بڑے اسکور بنانے کی ان کی بھوک اب بھی برقرار ہے۔
میچ میں کرناٹک نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے کپتان سمرن روی چندرن کی شاندار 126 رن کی سنچری اور کرشنن سریجیت کے 58 رن کی نصف سنچری کی بدولت 274 رن بنائے۔
اس کے جواب میں آندھرا پردیش نے سیرم وینکٹ راہل کی 119 رن کی سنچری اور ریونتھ ریڈی کے 97 رن اور شیخ رشید کے 54 رن کی نصف سنچریوں کی مدد سے پہلی اننگز میں 418 رن بنائے۔ اس طرح آندھرا کو پہلی اننگز کی بنیاد پر 144 رن کی برتری حاصل ہوئی۔
کرناٹک نے دوسری اننگز میں کرون نائر کے ناٹ آؤٹ 155 رن کی بدولت 9 وکٹوں پر 337 رن بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی اور آندھرا کے سامنے 194 رن کا ہدف رکھا۔اس کے جواب دن کا کھیل ختم ہونے تک آندھرا پردیش نے چار وکٹ پر 104رن بنالئے تھے ۔ اس طرح یہ میچ ڈرا رہا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد