قومی سلامتی کے ماہر امت دوبے ٹوئن کیفے سے وابستہ، سائبر سکیورٹی مشیر کی ذمہ داری سنبھالیں گے
نئی دہلی، 13 اکتوبر (ہ س)۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل ٹوئن پلیٹ فارم ٹوئن کیفے نے قومی سلامتی کے ماہر، مصنف اور سائبر سکیورٹی امور کے ماہر امت دوبے کو اپنا مینٹور اور سائبر سکیورٹی مشیر مقرر کیا ہے۔ ڈیجیٹل شناخت، ڈیپ فیک اور سائبر جرائم س
ٹون


نئی دہلی، 13 اکتوبر (ہ س)۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل ٹوئن پلیٹ فارم ٹوئن کیفے نے قومی سلامتی کے ماہر، مصنف اور سائبر سکیورٹی امور کے ماہر امت دوبے کو اپنا مینٹور اور سائبر سکیورٹی مشیر مقرر کیا ہے۔ ڈیجیٹل شناخت، ڈیپ فیک اور سائبر جرائم سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان کمپنی نے سکیورٹی اور اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔

نوئیڈا میں منعقدہ میڈیا سے تبادلے کے پروگرام میں امت دوبے کے ڈیجیٹل ٹوئن کو بھی باضابطہ طور پر متعارف کرایا گیا۔ یہ ڈیجیٹل ٹوئن لوگوں کو سائبر سکیورٹی، آن لائن دھوکہ دہی اور ڈیجیٹل جرائم سے متعلق معاملات میں رہنمائی فراہم کرے گا۔

نوئیڈا کے سیکٹر 98 میں واقع ٹوئن کیفے کے دفتر میں منعقدہ اس پروگرام میں امت دوبے، ٹوئن کیفے کے منیجنگ ڈائریکٹر سندیش گوئل اور بانی ٹیم کے رکن و برانڈ ایونجلسٹ ترون سنگھل موجود تھے۔

ٹوئن کیفے کو پہلے ’آسک سیلا‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نئے نام اور برانڈنگ کے بعد یہ پلیٹ فارم ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنفین، ماہرین اور تخلیق کاروں کے علم، شخصیت اور تجربات کی بنیاد پر انہیں بڑے پیمانے پر لوگوں سے جوڑنے کا کام کر رہا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ امت دوبے کا ڈیجیٹل ٹوئن اب اس پلیٹ فارم پر فعال ہوچکا ہے اور صارفین کو آن لائن خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ کمپنی کے مطابق، اے آئی پر مبنی خطرات اور ڈیپ فیک حملوں میں اضافے کے اس دور میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے سکیورٹی اور قابلِ اعتماد ہونا سب سے بڑی ترجیح بن چکا ہے۔

سائبر سکیورٹی سے متعلق رہنمائی اب کسی بھی وقت دستیاب ہوگی

امت دوبے نے کہا کہ انہوں نے برسوں تک تربیت، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور تحریر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی ہے، لیکن بھارت میں اچھی اور قابلِ اعتماد سائبر سکیورٹی سے متعلق مشوروں کی ضرورت کسی ایک شخص کی رسائی سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ڈیجیٹل ٹوئن اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسی چھوٹے شہر کا طالب علم، اپنا پہلا کاروبار شروع کرنے والا کاروباری شخص، ملازمت پیشہ فرد یا آن لائن دھوکہ دہی سے پریشان کوئی بزرگ شہری، حقیقی تفتیشی تجربات پر مبنی مشورے کسی بھی وقت حاصل کرسکے۔

امت دوبے نے کہا کہ ٹوئن کیفے میں اعتماد ہر چیز کی بنیاد ہے اور وہ اسی اعتماد کی حفاظت کے لیے اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہوئے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اعتماد برقرار رکھنا ضروری: آشوتوش گرگ

ٹوئن کیفے کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر آشوتوش گرگ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹوئن کی افادیت اسی حد تک ہے، جس حد تک لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ جب کمپنی ملک کی ممتاز شخصیات کے علم اور تجربے کو ٹوئن کیفے پر لا رہی ہے تو ہر ڈیجیٹل ٹوئن اور ہر گفتگو کی سکیورٹی یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امت دوبے کا وسیع تجربہ کمپنی کو ایسا پلیٹ فارم تیار کرنے میں مدد دے گا، جس پر افراد اور ادارے دونوں اعتماد کرسکیں۔

کمپنی کی بانی ٹیم کے رکن، سینئر گروتھ لیڈر اور برانڈ ایونجلسٹ ترون سنگھل نے کہا کہ سائبر خطرات دفتری اوقات کا انتظار نہیں کرتے، اس لیے اچھی رہنمائی بھی صرف مقررہ اوقات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق، ٹوئن کیفے پر امت دوبے کا ڈیجیٹل ٹوئن طلبہ سے لے کر چھوٹے کاروباری افراد تک سبھی کو سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ان کے برسوں کے تجربے کی بنیاد پر رہنمائی فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی مہارت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا یہی حقیقی طریقہ ہے۔

علم اور تجربے کو عام لوگوں تک پہنچانا مقصد

کمپنی کے مطابق، ٹوئن کیفے کا مقصد محض ایک اے آئی پلیٹ فارم بنانا نہیں، بلکہ ایسا ڈیجیٹل ذریعہ تیار کرنا ہے جہاں علم، تجربہ اور شخصیت وقت اور جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر لوگوں تک پہنچ سکے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس توسیع کے ساتھ سکیورٹی اور اعتماد کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ ٹوئن کیفے، ویوین اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ٹوئن پلیٹ فارم ہے۔ یہ پلیٹ فارم لوگوں کو ان کی آواز، شخصیت، علم اور مہارت کی بنیاد پر اے آئی کا ایک ڈیجیٹل ورژن تیار کرنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اس کمپنی کی بنیاد ٹیکنالوجی کے کاروباری ماہر آشوتوش گرگ نے رکھی ہے۔ کمپنی کو کھوسلا وینچرز اور فاؤنڈیشن کیپیٹل سے ابتدائی فنڈنگ کے طور پر 3.5 کروڑ امریکی ڈالر حاصل ہوئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande