
کیگالی، 13 اکتوبر (ہ س)۔ فارمولا ون نے افریقہ میں واپسی کی راہ ہموار کرتے ہوئے روانڈا کے ساتھ 10 سالہ تاریخی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ’فارمولا ون افریکن گراں پری‘ کو 2030 کی دہائی کے آغاز میں عالمی چمپئن شپ کے کیلنڈر میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔ اس ریس کے انعقاد کے ساتھ 1993 کے بعد پہلی بار فارمولا ون کی افریقی براعظم میں واپسی ہوگی۔اس معاہدے کو فارمولا ون کی عالمی توسیع کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ افریقہ میں اس کھیل کی واپسی کے منصوبے پر کئی برس سے کام جاری تھا۔ منتظمین کا مقصد عالمی معیار کی سہولتوں، مضبوط شراکت داری اور طویل مدتی ترقی کی بنیاد پر ایسا ریسنگ ایونٹ منعقد کرنا ہے، جس سے آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ پہنچے۔
پہلی ریس روانڈا کے علاقے بوگیسیرا میں مجوزہ نئے سرکٹ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد منعقد کی جائے گی۔ توقع ہے کہ یہ سرکٹ اگلی دہائی کے آغاز تک تیار ہوجائے گا۔ اسے انٹرنیشنل آٹوموبائل فیڈریشن (ایف آئی اے) کے گریڈ ون معیار کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ روانڈا ڈیولپمنٹ بورڈ کی قیادت میں کھیل، سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور کاروباری ترقی کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے۔
مجوزہ ریسنگ سرکٹ روانڈا کے دارالحکومت کیگالی سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب میں، نئے کیگالی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ اسے علاقے کی قدرتی ساخت اور بلندی میں تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا جائے گا، تاکہ ریس ڈرائیوروں کے لیے چیلنجنگ اور شائقین کے لیے دلچسپ ہو۔اس کمپلیکس کو صرف گراں پری کے انعقاد تک محدود نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے سال بھر بین الاقوامی موٹر اسپورٹس مقابلوں، بڑے پروگراموں، کانفرنسوں اور تفریحی تقریبات کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے خطے میں سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملنے کی امید ہے۔
فارمولا ون کے مطابق، افریقہ میں اس کے شائقین کی تعداد 10 کروڑ سے زیادہ ہے۔ سب صحارا افریقہ کی اہم منڈیوں میں تقریباً 60 فیصد شائقین کی عمر 35 سال سے کم ہے۔ اسی وجہ سے اس براعظم کو فارمولا ون کی توسیع کے لیے ایک اہم خطہ سمجھا جارہا ہے۔روانڈا اس سے پہلے بھی کئی بڑے بین الاقوامی ایونٹس کی میزبانی کرچکا ہے۔ ان میں یو سی آئی روڈ ورلڈ چمپئن شپ، آئی سی سی ویمنز چیلنج ٹرافی، 2023 فیفا کانگریس، باسکٹ بال افریقہ لیگ اور 2024 میں انٹرنیشنل آٹوموبائل فیڈریشن کی جنرل اسمبلی اور ایوارڈ تقریب شامل ہیں۔روانڈا حکومت کو امید ہے کہ فارمولا ون افریکن گراں پری سے ملک کی عالمی شناخت مضبوط ہوگی اور کھیل، سیاحت، اختراع اور کاروبار کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے سیاحت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، مقامی صلاحیتوں کو نکھارنے اور کاروباری اداروں و مقامی برادریوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
روانڈا کے صدر پال کاگامے نے اس معاہدے کو پورے افریقہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک دنیا کی سب سے بڑی موٹر اسپورٹس چمپئن شپ کے لیے افریقی براعظم پر کوئی ریس منعقد نہیں ہوئی، لیکن اب صورت حال بدل رہی ہے۔ان کے مطابق، روانڈا کو فارمولا ون افریکن گراں پری کی میزبانی کرنے اور افریقہ کے 10 کروڑ سے زیادہ شائقین کے ساتھ اس تاریخی موقع کو بانٹنے پر فخر ہے۔پال کاگامے نے کہا کہ ان شائقین کی بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں اپنے ہی ملک میں اس کھیل کو دیکھنے کے ساتھ انجینئر، ٹیکنیشن، کاروباری شخصیت اور مستقبل میں ریسنگ ڈرائیور بننے کے مواقع بھی ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ 10 سالہ شراکت داری روانڈا کے مستقبل میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔ بوگیسیرا میں نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب تعمیر ہونے والا سرکٹ آنے والی دہائیوں میں روزگار، ہنر مندی، سیاحت اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ حکومت کا مقصد صرف ایک ہفتے کے آخر میں ریس منعقد کرنا نہیں، بلکہ ملک کے عوام کے لیے طویل مدتی فوائد یقینی بنانا ہے۔
انٹرنیشنل آٹوموبائل فیڈریشن کے صدر محمد بن سلیّم نے افریقہ میں فارمولا ون کی واپسی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ موٹر اسپورٹس کی عالمی توسیع کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ روانڈا نے عالمی معیار کے ایونٹس منعقد کرنے کے لیے مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انٹرنیشنل آٹوموبائل فیڈریشن، فارمولا ون انتظامیہ اور اس کے شراکت دار مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ نیا سرکٹ اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار ہو۔محمد بن سلیّم کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد ایک پائیدار ورثہ قائم کرنا، نئی نسل کو ترغیب دینا، مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور افریقہ سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں موٹر اسپورٹس کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
فارمولا ون کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسٹیفانو ڈومینیکالی نے کہا کہ روانڈا کی شمولیت سے اگلی دہائی میں یہ چمپئن شپ دنیا کے ہر آباد براعظم میں ریس منعقد کرنے کے قابل ہوجائے گی۔ اس سے عالمی سطح پر شائقین کے مزید قریب پہنچنے کا موقع ملے گا۔انہوں نے کہا کہ افریقہ ہمیشہ سے فارمولا ون کے مستقبل کا حصہ رہا ہے۔ ان کے مطابق، ابتدا ہی سے مقصد یہ تھا کہ درست شراکت داروں، طویل مدتی عزم اور واضح حکمت عملی کے ساتھ اس براعظم میں واپسی کی جائے۔اسٹیفانو ڈومینیکالی نے کہا کہ یہ منصوبہ محض گراں پری منعقد کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاحت، سرمایہ کاری، ہنر مندی کے فروغ اور مقامی کاروبار کی ترقی کے ذریعے دیرپا اقتصادی اور سماجی فوائد پیدا کرنا بھی اس کا مقصد ہے۔
فارمولا ون اور روانڈا حکومت کے مطابق، افتتاحی ریس کی تاریخ، سرکٹ کی تعمیر کے اگلے مراحل اور ریس ویک اینڈ کے پروگرام سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan