
باووما کی کپتانی میں جنوبی افریقہ کو پہلی بار ٹیسٹ میں شکست کا سامنا
ڈربن، 13 اکتوبر (ہ س)۔ تیز گیند باز جوش ہیزل ووڈ کی تباہ کن گیند بازی کی بدولت آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو 214 رنوں سے شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کی۔ کنگزمیڈ میں کھیلے گئے اس مقابلے میں 421 رنوں کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز 206 رنوں پر سمٹ گئی۔ ہیزل ووڈ نے 49 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سلامی بلے باز ایڈن مارکرم نے 237 گیندوں پر 75 رنز بنا کر جدوجہد کی۔
آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز چھ وکٹوں کے نقصان پر 314 رنز بنا کر ڈکلیئر کر دی تھی۔ اس سے پہلے اس نے پہلی اننگز میں 390 رنز بنائے تھے، جس کے جواب میں جنوبی افریقہ کی ٹیم 284 رنوں پر آؤٹ ہوگئی تھی۔ پہلی اننگز میں برتری حاصل کرنے کے بعد آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے سامنے 421 رنوں کا مشکل ہدف رکھا۔
رینشا نے بلے اور گیند دونوں سے کمال دکھایا
آسٹریلیا کی جیت کے ہیرو میٹ رینشا رہے، جنہوں نے پہلی اننگز میں 190 رنوں کی شاندار اننگز کھیلی اور دوسری اننگز میں 82 رنز بنائے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں دو وکٹیں بھی حاصل کیں۔ پانچویں نمبر پر بلے بازی کی ذمہ داری سنبھالنے والے رینشا کی یہ کارکردگی ان کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
رینشا نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں اس مقابلے سے پہلے 30 گیندیں کرنے کے باوجود کوئی وکٹ حاصل نہیں کی تھی۔ اس میچ میں انہوں نے جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما کو آؤٹ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ اس کے بعد دوسری اننگز میں بھی انہوں نے اپنی افادیت ثابت کی۔
آسٹریلیا کی جانب سے نک میڈنسن نے دوسری اننگز میں 48 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی طرف سے کیشو مہاراج اور اینرک نورکیا نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
مارکرم اور ملڈر کی مزاحمتی بلے بازی
چوتھے دن کا کھیل ختم ہونے تک جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 102 رنز بنائے تھے۔ پانچویں دن مارکرم اور ویان ملڈر نے پانچویں وکٹ کے لیے 69 رنز کی شراکت قائم کرکے آسٹریلیا کی جیت کا انتظار بڑھادیا۔ دونوں نے صبر اور مضبوط دفاعی تکنیک کا مظاہرہ کیا۔
مارکرم نے 129 گیندوں پر اپنی ٹیسٹ کرکٹ کی 14ویں نصف سنچری مکمل کی۔ وہ جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں نویں بلے باز کے طور پر آؤٹ ہوئے۔ آسٹریلیا کے خلاف ان کی اوسط 60 سے زیادہ ہے، جو ان کے کیریئر کی مجموعی اوسط 35 سے کہیں بہتر ہے۔
ملڈر نے 110 گیندوں تک آسٹریلیائی گیند بازوں کا سامنا کیا، لیکن ہیزل ووڈ کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ دے بیٹھے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد رینشا کی گیند پر اسٹیو اسمتھ نے کائل ویرین کا کیچ پکڑ کر جنوبی افریقہ کو ایک اور جھٹکا دیا۔ اسمتھ نے چوٹ سے متعلق جانچ میں کامیاب ہونے کے بعد میدان میں واپسی کی تھی۔
نئی گیند سے ہیزل ووڈ نے جنوبی افریقہ کی امیدیں توڑ دیں
کھانے کے وقفے کے بعد جنوبی افریقہ نے کچھ دیر تک جدوجہد جاری رکھی۔ مارکو یانسن نے مچل اسٹارک کی گیند پر چوکا لگا کر ٹیم کو 200 رنوں کے پار پہنچایا، لیکن دوسری نئی گیند ملنے کے بعد آسٹریلیا نے میچ پر پوری طرح گرفت مضبوط کرلی۔
ہیزل ووڈ نے نئی گیند سے مسلسل دباؤ بنایا اور جنوبی افریقہ کی اننگز کو تہس نہس کردیا۔ مارکرم، اسٹارک کی گیند پر اندرونی کنارہ لگنے کے بعد وکٹ کیپر ایلکس کیری کو کیچ دے بیٹھے۔ اس کے بعد ہیزل ووڈ نے اینرک نورکیا کو آؤٹ کرکے آسٹریلیا کی جیت پر مہر ثبت کردی۔
جنوبی افریقہ کے لیے یہ کپتان ٹیمبا باووما کی قیادت میں ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی شکست ہے۔ اس سے پہلے ان کی کپتانی میں ٹیم نے 12 ٹیسٹ میچوں میں 11 جیت اور ایک ڈرا درج کیا تھا۔
نومبر 2025 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کرنے والی جنوبی افریقی ٹیم بلے بازی اور گیند بازی، دونوں شعبوں میں اپنی لے حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آئی۔
آسٹریلیا نے 2018 کے بال ٹیمپرنگ تنازعے کے بعد جنوبی افریقہ میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا اور جیت کے ساتھ واپسی کو یادگار بنا دیا۔
میچ کا نتیجہ اور اسکور
نتیجہ: آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو 214 رنز سے شکست دی۔
آسٹریلیا، پہلی اننگز: 390 رنز
آسٹریلیا، دوسری اننگز: 6 وکٹوں پر 314 رنز، ڈکلیئر
جنوبی افریقہ، پہلی اننگز: 284 رنز
جنوبی افریقہ، دوسری اننگز: 206 رنز
نمایاں کارکردگی:
میٹ رینشا: 190 اور 82 رنز
ایڈن مارکرم: 75 رنز
ڈیوڈ بیڈنگھم: 49 اور 46 رنز
جوش ہیزل ووڈ: 49 رنز دے کر 6 وکٹیں
میٹ رینشا: 30 رنز دے کر 2 وکٹیں
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی