
نئی دہلی، 13 اکتوبر (ہ س). بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ہندوستان کو ایک بار پھر دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشت قرار دیتے ہوئے رواں مالی سال میں اس کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 7 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ تاہم، یہ گزشتہ مالی سال میں درج 7.7 فیصد کی شرح نمو سے کم ہے۔
آئی ایم ایف نے منگل کو جاری اپنی رپورٹ ورلڈ اکنامک آو¿ٹ لک میں مالی سال 27-2026 کے لیے ہندوستان کی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ 6.4 فیصد سے بڑھا کر 7 فیصد کردیا ہے۔ ادارے نے عالمی معیشت کی شرح نمو 2026 میں 3.1 فیصد اور 2027 میں 3.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم، توانائی اور غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عالمی مہنگائی کی شرح 4.7 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ترقی یافتہ معیشتوں کی شرح نمو رواں سال معمولی اضافے کے ساتھ 2.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ 2 فیصد تھی۔ تاہم، 2027 میں اس کے گھٹ کر 1.9 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔آئی ایم ایف نے اپنے تخمینوں میں یہ مانا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی سپلائی مارچ تک دوبارہ شروع ہوجائے گی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مانگ میں تیزی کچھ کم ہوجائے گی۔
آئی ایم ایف نے مالی سال28-2027 کے لیے بھی ہندوستان کی شرح نمو کا تخمینہ 0.3 فیصد پوائنٹ بڑھا کر 7 فیصد کردیا ہے، جو ہندوستانی معیشت کی ترقی کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اقتصادی شرح نمو 2.3 فیصد پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کی شرح نمو رواں سال 4.5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جو 2025 میں درج 5 فیصد سے کم ہے۔ یہ شرح چین کی حکومت کے مقرر کردہ سرکاری ہدف کے مطابق ہے۔
اس کے علاوہ یورو کرنسی استعمال کرنے والے 21 یورپی ممالک کی معیشتوں میں رواں سال 1.1 فیصد اور 2027 میں 1.2 فیصد کی شرح سے ترقی ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ہندوستان کی شرح نمو کے تخمینے میں یہ تبدیلی ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی حالیہ مانیٹری پالیسی جائزہ میٹنگ کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس میٹنگ میں آر بی آئی نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک کی جی ڈی پی نمو کا تخمینہ بڑھا کر 7.1 فیصد کردیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد