برکس کے روایتی کھیلوں کے ذریعے ثقافتی ورثے اور تنوع کا جشن، منسکھ مانڈویہ نے باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا
احمد آباد، 12 اکتوبر (ہ س)۔ گجرات کے احمد آباد میں واقع ویر ساورکر اسپورٹس کمپلیکس، نارَن پورہ میں پیر کے روز برکس کے روایتی اور مقامی کھیلوں کی نمائش 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں برکس ممالک کے وفود، کھلاڑیوں، روایتی
برکس


احمد آباد، 12 اکتوبر (ہ س)۔ گجرات کے احمد آباد میں واقع ویر ساورکر اسپورٹس کمپلیکس، نارَن پورہ میں پیر کے روز برکس کے روایتی اور مقامی کھیلوں کی نمائش 2026 کا انعقاد کیا گیا۔ دن بھر جاری رہنے والے اس پروگرام میں برکس ممالک کے وفود، کھلاڑیوں، روایتی کھیلوں کے ماہرین، تکنیکی عہدیداروں اور معاون اداروں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد مختلف ممالک کے کھیلوں کے ورثے، ثقافتی تنوع اور عوام کے درمیان باہمی رابطوں کو فروغ دینا تھا۔

مرکزی وزیر برائے امورِ نوجوانان و کھیل ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ نے گجرات کے نائب وزیرِ اعلیٰ ہرش سنگھوی کی موجودگی میں پروگرام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مانڈویہ نے کہا کہ ہندوستان مستقبل کی ضروریات کے مطابق کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرکے کھیلوں کو قومی تعمیر کے مرکز میں لا رہا ہے۔ انہوں نے کھیلوں کو نوجوانوں کی ترقی، شمولیت، ثقافتی ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعاون کا ذریعہ قرار دیا۔

برکس کے 10 ممالک کے نمائندوں اور دیگر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے مانڈویہ نے ہندوستان میں کھیلوں کی ثقافت کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کھیلوں کو قومی تعمیر کے مرکز میں رکھ رہا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان اپنے کھیلوں کے نظام کو تبدیل کر رہا ہے اور کھیل کے میدان سے لے کر تمغوں کے حصول تک نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔

’’نچلی سطح پر شرکت، صلاحیتوں کی شناخت، تربیت، کھیلوں کی سائنس، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور بین الاقوامی تجربات سمیت ایک جامع 360 ڈگری نقطۂ نظر کے ذریعے ہندوستان مستقبل کے لیے ایک پائیدار کھیلوں کا نظام تیار کر رہا ہے۔‘‘

مانڈویہ نے کہا، ’’اس تبدیلی کی حمایت کے لیے ہم نے کھیلو انڈیا پہل کے تحت تقریباً 3.76 ارب امریکی ڈالر مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔‘‘

روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے تین تجاویز

مانڈویہ نے برکس ممالک کے درمیان روایتی اور مقامی کھیلوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے تعاون کے تین عملی شعبے تجویز کیے۔ انہوں نے کہا، ’’برکس کے روایتی اور مقامی کھیل ہمیں یہ دکھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ کوئی کھیل کس طرح کھیلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ کھیلوں کی تاریخ، اقدار اور ثقافتی پس منظر کو بھی سامنے لاتے ہیں، جو ہر روایت کو منفرد بناتا ہے۔ اس پہل کو آگے بڑھاتے ہوئے ہندوستان تعاون کے تین عملی شعبے تجویز کرتا ہے۔‘‘

پہلی تجویز پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اول، ہمیں روایتی اور مقامی کھیلوں کا برکس کا ایک رضاکارانہ آرکائیو بنانے کی سمت کام کرنا چاہیے۔ اس میں ان کھیلوں کی تاریخ، ثقافتی اہمیت، قواعد، آلات اور کھیل کے میدان سے متعلق ضروریات کو دستاویزی شکل دی جانی چاہیے۔‘‘

دوسری تجویز کے بارے میں انہوں نے کہا، ’’دوم، ہمیں برکس ممالک کے روایتی کھیلوں کے کھلاڑیوں، تربیت کاروں، محققین، تعلیمی اداروں اور ثقافتی ماہرین کے درمیان تبادلے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔‘‘

تیسری تجویز میں مانڈویہ نے کہا، ’’سوم، ہمیں مستقبل میں ہونے والے برکس کھیلوں کے مقابلوں میں روایتی اور مقامی کھیلوں کی باقاعدہ نمائش کے امکانات پر غور کرنا چاہیے۔‘‘

فٹ انڈیا مہم کے ذریعے فٹنس کو طرزِ زندگی بنانے کی کوشش

مانڈویہ نے فٹ انڈیا مہم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کو طرزِ زندگی کا حصہ بنانے کی سمت میں بھی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’فٹ انڈیا مہم کے ذریعے ہم فٹنس کو طرزِ زندگی کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔

’’ہماری ’سنڈیز آن سائیکل‘ مہم کو زبردست کامیابی ملی ہے۔ ہر اتوار تین لاکھ سے زیادہ مقامات پر پانچ لاکھ سے زائد افراد سائیکل چلانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اب تک پورے ہندوستان میں ’سنڈیز آن سائیکل‘ کے 94 ایڈیشن منعقد کیے جا چکے ہیں۔‘‘

10 ممالک نے اپنے روایتی کھیلوں کا مظاہرہ کیا

پروگرام میں شریک برکس کے 10 ممالک نے اپنے روایتی اور مقامی کھیلوں کی نمائش کی۔ بیلاروس نے گوروڈکی، جبکہ بولیویا نے لوچا دے چولیٹاس، ٹِنکو، ریویلا، ٹرومپو، کچیناس اور بوری ریس جیسے کھیل پیش کیے۔

برازیل نے مقامی انداز کی پھونک مارنے والی نلی سے نشانہ لگانے کے کھیل، لکڑی کے بڑے لٹھوں کی دوڑ، برازیلی پیرا جیو جِتسو اور کاپوئیرا کا مظاہرہ کیا۔ چین نے ووشو، شیر کا رقص اور صحت سے متعلق چی گونگ پیش کیا۔

ہندوستان کی جانب سے مَلّکھمب، یوگ آسن اور کلری پَیَٹّو کا مظاہرہ کیا گیا۔ ایران نے زورخانے، ہفت سنگ اور غانیہ، جبکہ قازقستان نے اسیک آتو، توغوز کمالک اور قازق کشتی پیش کی۔

روس نے گوروڈکی اور سامبو، جنوبی افریقہ نے کگاتی اور اِینٹونگا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے التبّاح کھیل پیش کیا۔

کھیلوں کے مظاہروں کے ساتھ ثقافتی پروگرام اور شائقین کی شرکت سے متعلق سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔ پروگرام کے اختتام پر شریک ٹیموں کو اعزاز سے نوازا گیا۔

کھیلوں کے ذریعے دوستی اور تعاون مضبوط بنانے پر زور

اس تقریب نے برکس ممالک کو اپنے روایتی کھیلوں کی تاریخ، اقدار، ثقافتی پس منظر اور ان کے طریقۂ عمل کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ پروگرام میں اجتماعی علم اور روایتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ کھیلوں کو جدید بنانے، سبھی طبقات کی شرکت بڑھانے اور برکس ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کو مضبوط کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande