
نئی دہلی، 12 اکتوبر (ہ س)۔ مہنگائی کے محاذ پر عام لوگوں کو ایک اور جھٹکا دینے والی خبر ہے۔ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ستمبر میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ صارفین کے قیمت اشاریے (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ مہنگائی اگست میں 4.83 فیصد تھی۔
وزارت شماریات و پروگرام نفاذ کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب صارفین کے قیمت اشاریے پر مبنی خوردہ مہنگائی کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے 4 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے اوپر برقرار ہے۔
جنوری میں جاری کی گئی نئی اشاریہ سیریز کے تحت ستمبر میں مہنگائی کی شرح اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس سے پہلے جون میں خوردہ مہنگائی 4.38 فیصد، جولائی میں 4.45 فیصد اور اگست میں 4.83 فیصد درج کی گئی تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں غذائی اشیا کی مہنگائی بڑھ کر 7.74 فیصد ہوگئی، جب کہ اگست میں یہ 5.97 فیصد تھی۔ اسی مدت کے دوران دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 6.08 فیصد اور شہری علاقوں میں 4.88 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مہنگائی کے بڑھتے خدشات کے درمیان ریزرو بینک آف انڈیا نے گزشتہ ہفتے اپنی پالیسی شرح، ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کا اضافہ کرکے اسے 5.50 فیصد کر دیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد