
جموں،09 جنوری (ہ س)۔
جموں و کشمیر میں سردی کی لہر جاری ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کم از کم درجۂ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک کی سب سے سرد رات دیکھی گئی، جہاں پارہ منفی 6 ڈگری سیلسیس تک گرگیا۔
شدید سردی اور منفی درجۂ حرارت کے باعث وادی کشمیر میں نلکوں کا پانی، سڑکوں پر جمع پانی اور کم گہرے آبی ذخائر منجمد ہو گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجۂ حرارت کے درمیان فرق میں کمی آئی ہے، کیونکہ جمعرات کو سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 11.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات نے 20 جنوری تک عمومی طور پر سرد اور خشک موسم کی پیش گوئی کی ہے، تاہم بالائی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی بارش یا برف باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
طویل خشک موسم نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ 40 روزہ شدید سردی کے دورانیے ’چِلے کلاں‘ کا نصف حصہ گزر چکا ہے، لیکن میدانی علاقوں میں اب تک موسم کی پہلی برف باری نہیں ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فروری اور مارچ میں ہونے والی برف باری جلد پگھل جاتی ہے، جس کے باعث پہاڑی آبی ذخائر کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔
دیگر علاقوں میں گلمرگ میں کم از کم درجۂ حرارت منفی 7.2، پہلگام میں منفی 7.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ جموں شہر میں 5.6، کٹرا میں 3.5، بٹوت میں ایک، بانہال میں منفی 0.9 اور بھدرواہ میں منفی 3.4 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔
سخت سرد اور خشک موسم کے پیش نظر اسپتالوں میں سینے اور دل سے متعلق امراض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت نے سانس اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کو خصوصی احتیاط برتنے اور شدید سردی کے دوران غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر