
پیرس،09جنوری(ہ س)۔فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے جمعہ کو فرانس کے سفیروں سے اپنے سالانہ خطاب میں کہا ہے کہ یورپی سیاسی نظام آج خطرے میں ہے۔نہیں، یورپی تہذیب ختم نہیں ہو گی۔ ہاں البتہ ہمارا سیاسی نظام ایک غیر متوقع دنیا میں اپنے قیمتی استحکام کے باوجود، اپنی بے پناہ سائنسی، تکنیکی، ثقافتی اور مالی دولت کے باوجود آج خطرے میں ہے، بیروٹ نے کہا۔
دسمبر میں ٹرمپ انتظامیہ کی جاری کردہ امریکہ کی قومی سلامتی حکمت عملی نے یورپ پر ایک وحشیانہ حملہ کیا جس میں کہا گیا کہ اسے نقلِ مکانی سے تہذیب کی معدومیت کا سامنا ہے اور دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان مزاحمت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔فرانسیسی وزیر نے کہا، نہیں، یورپ تہذیبی معدومیت کے دہانے پر نہیں ہے اور یہ دعویٰ کرنے والی متکبر آوازوں کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ اپنی معدومیت پر توجہ دیں۔لیکن ان کے خیال میں یوروپی یونین کو’خطرہ بیرونی مخالفین سے ہے جو ہمیں متحد کرنے والے یکجہتی کے رشتے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘ اور ’اندر سے جمہوری اضمحلال سے‘ خطرہ ہے۔
آئیے یہ واضح کریں: آج کوئی چیز اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ ہم آئندہ دس سالوں میں بدستور یورپی یونین کے اندر رہیں گے، انہوں نے خبردار کیا۔انہوں نے امریکہ کو ایسا اتحادی قرار دیا جس کے ساتھ ہماری ہمیشہ مطابقت نہیں ہوتی۔چند ہی مہینوں میں نئی امریکی انتظامیہ نے فیصلہ کیا - اور یہ اس کا حق ہے کہ وہ - ہمیں باہم ملانے والے تعلقات پر نظرِ ثانی کرے۔ ہمارا بھی یہ حق بھی ہے کہ جب کسی تاریخی اتحادی کی کوئی تجویز قابلِ قبول نہ ہو اور جب ہمارا انکار کرنا ضروری ہو جائے تو اسے انکار کر دیں خواہ اس سے تعلقات کتنے ہی تاریخی ہوں، بیروٹ نے کہا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan