
سڈنی، 8 جنوری (ہ س)۔ آسٹریلیا نے سڈنی کرکٹ گراؤنڈ (ایس سی جی) میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر ایشز سیریز 4-1 سے جیت لی۔ یہ میچ سیریز کا قریب ترین ٹیسٹ ثابت ہوا، جس میں پانچویں دن ٹرننگ پچ، امپائرنگ تکنیک پر تنازعہ اور آخری لمحات کا دباؤ -سب کچھ دیکھنے کو ملا ۔
انگلینڈ کی تیسری اننگز میں جیکب بیتھل کے شاندار 154 رن کی بدولت آسٹریلیا کو جیت کے لیے 160 رن کا ہدف دیا۔ جواب میں آسٹریلیا کی اننگز ڈگمگا گئی اور اس کی پانچویں وکٹ 39 رن پر گر گئی۔ ایلکس کیری (ناٹ آؤٹ 16) اور کیمرون گرین (ناٹ آؤٹ 22) نے پھر چھٹی وکٹ کے لیے 40 رن کی نازک لیکن فیصلہ کن شراکت داری قائم کی، کیری نے ول جیکس کی گیند پر فاتحانہ رن بنائے۔
جوش ٹونگ نے انگلینڈ کے لیے جدوجہد بھری گیندبازی کی، جنہوں نے 11 اوورز میں 3/42 حاصل کیے، لیکن ایک تجربہ کار اسپنر کی کمی انگلینڈ کے لیے مہنگی ثابت ہوئی کیونکہ پچ تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ کپتان بین اسٹوکس نے گروئن انجری کے باوجود ٹیم کی قیادت کی اور ڈی آر ایس کے ایک اور فیصلے سے وہ کافی ناراض نظر آئے۔
اس ٹیسٹ میں ایک جذباتی لمحہ اس وقت آیا جب عثمان خواجہ اپنے آخری ٹیسٹ میچ میں بلے بازی کے لیے باہر آئے۔ بین اسٹوکس نے کھیل کے جذبے کے ساتھ ان کے لیے گارڈ آف آنر کا اہتمام کیا۔ خواجہ صرف 6 رن بنا کر جوش ٹونگ کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے۔ آوٹ ہونے کے بعد، انہوں نے مارنس لیبوشین کو گلے لگاکر وداعی لی، اپنے خاندان کی جانب ہاتھ ہلایا اور میدان پر لکھے ’’تھینکس ازّی‘‘ پیغام کو سلامی دی ۔
آسٹریلیا نے پورے میچ میں وقفے وقفے سے وکٹیں گنوائیں۔ اسٹیو اسمتھ اور مارنس لیبوشین جلد ہی آؤٹ ہوگئے لیکن انگلینڈ کے پارٹ ٹائم اسپنرز میچ کا رخ تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران جیک ویدرالڈ اور برائیڈن کارس کے درمیان میدان پر تلخ نوک جھوک بھی دیکھنے کو ملی، جس کی وجہ ڈی آر ایس سے متعلق تنازعہ رہا۔
بیتھل کو اس ٹیسٹ میں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا جبکہ پوری سیریز میں 31 وکٹیں لینے اور 156 رن بنانے والے مچل اسٹارک کو ’پلیئر آف دی سیریز‘کا ایوارڈ ملا۔
اس ہار کے ساتھ بیرونی سرزمین پر انگلینڈ کی خراب فارم جاری ہی۔ ٹیم نے اپنے آخری بیرون ممالک میں کھیلے گئے 17 ٹیسٹ میچوں میں سے صرف پانچ جیتے ہیں۔ جبکہ آسٹریلیا نے گھر یلو میدان پر اپنا تسلط برقرار رکھتے ہوئے ایک اور یادگار ایشز سیریز اپنے نام کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد