معروف صحافی پرواز رحمانی کے انتقال پر امیر، جماعت اسلامی ہند کا اظہار تعزیت
نئی دہلی،06جنوری(ہ س)۔امیر جماعت اسلامی ہند ، سید سعادت اللہ حسینی نے، معروف صحافی جناب پرواز رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں آپ نے فرمایا کہ جناب پرواز رحمانی صاحب کا انتقال نہ صرف صحافت کے شعبے میں بلکہ مجموع
معروف صحافی پرواز رحمانی کے انتقال پر امیر، جماعت اسلامی ہند کا اظہار تعزیت


نئی دہلی،06جنوری(ہ س)۔امیر جماعت اسلامی ہند ، سید سعادت اللہ حسینی نے، معروف صحافی جناب پرواز رحمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں آپ نے فرمایا کہ جناب پرواز رحمانی صاحب کا انتقال نہ صرف صحافت کے شعبے میں بلکہ مجموعی طور پر ملک و ملت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ سہ روزہ دعوت کے مدیر کی حیثیت سے پرواز صاحب کی خدمات مثالی صحافت کا اعلی نمونہ ہیں۔ صحافتی دیانت، فکری گہرائی و متانت، جرا¿ت و بے باکی اور اخلاص و درد مندی کی اعلی قدروں کو اپنی اصول پسند صحافت میں انہوں نے جس طرح برتا وہ ہمیشہ صحافیوں کے لیے ایک نمونہ ہوگا. صحافت ان کے لیے محض ایک پیشہ نہیں تھا بلکہ اعلی مقاصد حیات اور انسانوں کی ہمہ گیر فلاح و بہبود کا ایک طاقت ور ذریعہ تھا۔

ان کی آواز اصولی، متوازن اور حقائق پر مبنی ہوتی تھی، جس نے انہیں قارئین اور اہلِ قلم میں یکساں طور پر مقبول بنایا۔ خاص طور پر سہ روزہ دعوت میں خبر و نظر کے کالم کے تحت شائع ہونے والے آپ کے مختصر مضامین نے سہ روزہ دعوت کی مقبولیت اور تاثیر میں اضافے میں کلیدی رول ادا کیا۔صحافت کے علاوہ، پرواز رحمانی صاحب نے تحریک اسلامی ہند کے لیے بھی مختلف میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس نمائندگان کے بھی رکن رہے۔دعوت دین، اصلاح امت اور ملکی و ملی مسائل کے حل کی کوشش، تحریک میں ان کے خاص میدان تھے۔

ان کی شخصی خوبیاں بھی قابلِ تقلید تھیں۔ علمی عظمت کے باوجود وہ نہایت منکسرالمزاج، مخلص، نرم خو اور خورد نواز شخصیت کے مالک تھے. اپنی ان خوبیوں کے ذریعے انہون نے بلند پایہ صحافیوں کی ایک پوری نسل کی تربیت کی ۔امیر جماعت نے مرحوم سے اپنے دیرینہ ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ طویل عرصے تک مرکزی مجلس شوری اور مجلس نمائندگان میں ان کا ساتھ رہا. ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا? مرکزی مجلس شوری کی قراردادوں کی کمیٹیوں میں بارہا ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے صحافت اور قرارداد نویسی کے متعدد رموَز سیکھنے کو ملے۔ہم مرحوم کے اہلِ خانہ، ساتھیوں اور قارئین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی خدمات اور وراثت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی انشاء اللہ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande