
لداخ , 02 جنوری (ہ س)۔
مرکزی وزارتِ خزانہ نے ایک اہم فیصلے کے تحت لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کو مالی اختیارات دوبارہ بحال کر دیے ہیں۔ وزارت کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق لداخ سمیت انڈمان و نکوبار جزائر، چنڈی گڑھ، دادرا و نگر حویلی و دمن و دیو اور لکشدیپ کے منتظمین اور لیفٹیننٹ گورنرز کو 100 کروڑ روپے تک کے منصوبوں کی جانچ اور منظوری کا اختیار سونپا گیا ہے۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ اختیارات ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز رولز 2024 کے تحت فراہم کیے گئے ہیں۔ تاہم شرط رکھی گئی ہے کہ ان اختیارات کا استعمال متعلقہ مرکز کے سکریٹری (فنانس) یا مالی مشیر سے مشاورت اور مناسب بجٹ کی دستیابی کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ تفویض کردہ اختیارات آگے کسی اور کو منتقل نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے علاوہ ان اختیارات کے تحت منظور کیے گئے تمام منصوبوں کی تفصیلات ہر تین ماہ بعد وزارتِ داخلہ کے ذریعے محکمہ اخراجات کو فراہم کرنا لازمی ہوگا، جس کی آخری تاریخیں جولائی، اکتوبر، جنوری اور اپریل مقرر کی گئی ہیں۔
خط کے مطابق منتظمین اور لیفٹیننٹ گورنرز کو اخراجات کی اصولی منظوری سے لے کر حتمی منظوری تک کے اختیارات ڈی ایف پی آر ایس، 2024 کے قاعدہ 16 کے تحت حاصل رہیں گے، تاہم یہ اختیار اسی صورت میں استعمال کیا جا سکے گا جب متعلقہ اسکیموں کی مجاز حکام سے جانچ اور منظوری مکمل ہو چکی ہو۔
یہ فیصلہ خاص طور پر لداخ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں نے اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر سے 100 کروڑ روپے تک کے منصوبوں کی منظوری کے اختیارات واپس لینے اور انہیں وزارتِ داخلہ میں مرکوز کرنے پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر