یکساں سول کوڈ سماجی مساوات اور انصاف کی علامت ہے: وزیر اعلیٰ
دہرادون، 17 جنوری (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کا ہر فیصلہ ریاست کے طویل مدتی مفادات، سماجی توازن، ثقافتی تحفظ اور ترقی کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے جرات مندان
یکساں سول کوڈ سماجی مساوات اور انصاف کی علامت ہے: وزیر اعلیٰ


دہرادون، 17 جنوری (ہ س)۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ اتراکھنڈ حکومت کا ہر فیصلہ ریاست کے طویل مدتی مفادات، سماجی توازن، ثقافتی تحفظ اور ترقی کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں جن کا اثر صرف موجودہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ اتراکھنڈ کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ہفتہ کو ایک میڈیا گروپ کے ذریعہ منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت کی۔ ’اتراکھنڈ: امکانات کا ایک نیا دروازہ‘ کے موضوع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک لئے گئے تاریخی اور دور اندیش فیصلوں کی وضاحت کی۔

بات چیت کے دوران، انہوں نے نہ صرف حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں کے پس منظر کی وضاحت کی بلکہ ریاست کے مستقبل کے بارے میں حکومت کے واضح وڑن اور عزم کو بھی اجاگر کیا۔ پروگرام کے دوران، وزیر اعلیٰ نے مکالمے کے دوران پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے، جس میں ریاستی حکومت کی پالیسیوں، قوانین، اور انتظامی فیصلوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت بات چیت اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ہر فیصلے کی دلیل اور مقصد کی وضاحت کرے۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے تاریخی فیصلے کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ سماجی مساوات، انصاف اور خواتین کو بااختیار بنانے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور یہ آئین کی بنیادی روح ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی کہ اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے یکساں سول کوڈ کو نافذ کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دیرینہ سماجی ناہمواریوں کو ختم کرنے اور ہم آہنگ معاشرے کے قیام میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس قانون کو نافذ کرنے سے پہلے وسیع غور و خوض اور آئینی پہلوو¿ں کا گہرا مطالعہ کیا گیا تھا۔مدرسہ بورڈ کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد تعلیم میں مساوات اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں تعلیم کا ذریعہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ بچوں کو جدید علم، ہنر اور قومی دھارے سے جوڑے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ فیصلہ کسی مذہب یا برادری کے خلاف نہیں ہے بلکہ تعلیمی نظام کو ہموار کرنے اور بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کی طرف ایک قدم ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ریاست کا ہر بچہ یکساں تعلیمی نظام کے اندر ترقی کرے اور قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande