
جے پور، 17 جنوری (ہ س)۔ راجستھان ہائی کورٹ نے 4ویں جماعت کی طالبہ عمائرہ کی موت کے بعد مانسروور میں واقع نیرجا مودی اسکول کی منظوری منسوخ کرنے کے سلسلے میں سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن اور سی بی ایس ای سکریٹری سمیت دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس بپن گپتا کی سنگل بنچ نے نیرجا مودی اسکول کی جانب سے دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا۔
درخواست میں ایڈوکیٹ رچت شرما نے عدالت کو بتایا کہ سی بی ایس ای نے حال ہی میں 9ویں سے 12ویں جماعت کے لیے اسکول کی منظوری کو منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا ہے، حالانکہ لڑکی کی موت خودکشی سے ہوئی تھی۔ اس لیے اسکول کی منظوری کو منسوخ کرنا غلط ہے۔ اسکول کی منظوری منسوخ ہونے کی وجہ سے سینکڑوں طلبا ذہنی تناو¿ کا شکار ہیں اور ان کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ لہٰذا سکول کی منظوری منسوخ کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔
معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سنگل بنچ نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیرجا مودی اسکول میں کلاس 4 کی طالبہ عمائرہ نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے جائے وقوعہ کو پانی سے دھو دیا۔ حال ہی میں، سی بی ایس ای نے اسکول کی منظوری کو منسوخ کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد