
واشنگٹن،16جنوری(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی میں امن کونسل کی تشکیل مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وہاں فلسطینی ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کی تصدیق کی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا مجھے امن کونسل کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے۔ کونسل کے اراکین کا اعلان جلد کر دیا جائے گا، لیکن میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ اب تک کی سب سے عظیم اور باوقار کونسل ہے جو تشکیل دی گئی ہے۔
انہوں نے ایک اور پوسٹ میں مزید کہا امن کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے، میں نئی تعینات کردہ فلسطینی ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کرتا ہوں، جو کہ 'غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی' ہے، جسے کونسل کے اعلیٰ نمائندے کی حمایت حاصل ہے، تاکہ وہ عبوری مرحلے کے دوران غزہ کا انتظام سنبھال سکے۔انہوں نے مزید کہا مصر، ترکیہ اور قطر کے تعاون سے ہم حماس کے ساتھ اسلحہ سے پاک کرنے کا ایک جامع معاہدہ محفوظ کریں گے، جس میں اس کے ہتھیاروں کی حوالگی اور سرنگوں کو ختم کرنا شامل ہے۔اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جس میں آخری یرغمالی کی لاش اسرائیل کو واپس کرنا اور مکمل غیر مسلح ہونے کی طرف بلا تاخیر پیش قدمی کرنا شامل ہے۔
امریکی صدر کے مطابق حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے کا کام آسان طریقے سے یا مشکل طریقے سے کیا جائے گا، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ نتائج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی کی راہ ہموار کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن کونسل کی سربراہی کریں گے جو عارضی طور پر غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالے گی اور اس کی تعمیرِ نو سے متعلق فیصلے کرے گی۔ کونسل جس میں عالمی رہنما شامل ہیں، حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے کے طریقوں، ٹیکنو کریٹ حکومت کی تشکیل اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر تبادلہ خیال کرے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز انکشاف کیا تھا کہ کونسل میں بنیادی طور پر اہم ترین ممالک کے اہم ترین رہنما شامل ہوں گے۔وائٹ ہاو¿س نے یہ بھی واضح کیا کہ کونسل غزہ کی تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کرے گی اور فنڈنگ کا انتظام سنبھالے گی، اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں ایک ایسی مستقبل کی حکومت کی مسلسل نگرانی اور کنٹرول فراہم کرے گی جس میں اہل فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین شامل ہوں۔غزہ میں امن کے امریکی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور بین الاقوامی نگرانی میں فلسطینی غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے مقرر کردہ ٹیکنو کریٹ کمیٹی کی علی شعث کی جانب سے سربراہی کے ساتھ ہی حماس نے کمیٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ہے۔
حماس کے رہنما باسم نعیم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ تنظیم نے غزہ کی پٹی کا انتظام قومی عبوری کمیٹی کے حوالے کرنے اور اس کے مشن میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔فلسطینی دھڑوں اور قوتوں نے بدھ کو مصری ضمانتوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کے ساتھ غزہ کے لیے ایک روڈ میپ کے بارے میں بیان جاری کیا تھا، جو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے وڑن کو متحد کرنے کے لیے مصری دارالحکومت قاہرہ میں ان کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔انہوں نے قومی فلسطینی عبوری کمیٹی کی تشکیل میں ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کی بھی تصدیق کی، تاکہ اس کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جا سکے کہ وہ امن کونسل اور اس کی بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی کے تعاون سے زندگی کے امور اور بنیادی خدمات کو چلانے کے لیے غزہ کی پٹی کی تمام ذمہ داریاں فوری طور پر سنبھال لے، جو غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے عمل کی منظوری اور نفاذ کی نگرانی کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan