
اورنگ آباد ، 16 جنوری (ہ س)۔ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد اورنگ آباد میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی زبردست کامیابی نے ریاستی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امتیاز جلیل نے کہا کہ پارٹی کو اورنگ آباد میں 33 نشستوں پر کامیابی ملی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام نے ایک بار پھر مجلس کی قیادت اور پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
مہاراشٹر میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے اورنگ آباد میں 33، امراوتی میں 11، ممبرا میں 5، گونڈی میں 4، دھولیہ میں 10، اکولہ میں 3، ناندیڑ میں 15 اور مالیگاؤں میں 21، احمد نگر میں 2، ، جالنہ میں 2، شولاپور میں 8، پربھنی 1 اور ناگپور میں7 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بعد ایم آئی ایم شہر کی دوسری سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی ہے، جو مجلس کی منظم جدوجہد اور کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے شعوری طور پر عام لوگوں کو انتخابی میدان میں اتارا تھا اور آج وہی لوگ کامیاب ہو کر عوامی نمائندگی کی مثال بنے ہیں۔
امتیاز جلیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مجلس اورنگ آباد کی ترقی، بنیادی سہولیات اور شہری مسائل کے حل کے لیے سرگرم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمراں جماعت شہر کی بھلائی کے لیے کام کرے گی تو مجلس اس میں تعاون کرے گی، بصورت دیگر ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر دباؤ ڈال کر عوامی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔
ریاست گیر سطح پر بھی ایم آئی ایم نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پارٹی نے مختلف شہروں میں نمایاں نشستیں حاصل کر کے اپنی موجودگی مضبوط کی ہے، جس سے نہ صرف حکمراں مہایوتی بلکہ اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی کے سیاسی حساب کتاب پر بھی اثر پڑا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران پارٹی صدر اسدالدین اویسی کے 19 بڑے جلسوں نے خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں اور دلت بستیوں میں گہرا اثر ڈالا، جس کا عکس ووٹوں میں صاف نظر آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم آئی ایم کو اب مہاراشٹر کی شہری سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی اور فیصلہ کن قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے