
امرتسر، 15 جنوری (ہ س): صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعرات کو کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس کے ذریعے سماج اور قوم کی خدمت کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی فائدے سے بالاتر ہو کر اپنے علم، ہنر اور صلاحیتوں کو سماجی ترقی اور قومی ترقی کے لیے استعمال کریں۔
یہاں گرو نانک دیو یونیورسٹی میں کانووکیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم ایک شخص کی ہمہ جہت ترقی کے ساتھ ساتھ ذمہ دار شہری بننے کا ذریعہ ہے۔ رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلباءکو مختلف شعبوں میں ملازمت دی جاتی ہے لیکن مسلسل سیکھنے کا جذبہ، اخلاقی اقدار سے وابستگی، ایمانداری، نظم و ضبط اور معاشرے کے لیے ذمہ داری ہر شعبے میں یکساں ضروری ہے۔
صدر نے کہا کہ معاشرے نے طلباءکی تعلیم میں کردار ادا کیا ہے، اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے ان طبقات کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں جو مرکزی دھارے کی ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد اسی وقت پورا ہو گا جب اس کے ثمرات معاشرے کے آخری فرد تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلی دہائی کے دوران، ہندوستان نے ٹیکنالوجی اور انٹرپرینیورشپ میں نمایاں ترقی کی ہے، اور زراعت سے لے کر مصنوعی ذہانت، دفاع اور خلا تک کے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق، اختراعات اور صنعت و اکیڈمی تعاون کو فروغ دے کر اس پیش رفت کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔
صدر نے پنجاب میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوانوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس چیلنج سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگلی دو دہائیاں ”ترقی یافتہ ہندوستان“ کی تعمیر کے لیے اہم ہیں۔ اس کے لیے سائنسی نقطہ نظر، ذمہ دارانہ طرز عمل اور بے لوث خدمت کے جذبے کے حامل نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ صدر نے طلباء پر زور دیا کہ وہ جس بھی شعبے کا انتخاب کریں، قوم کی تعمیر اور انسانی اقدار کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی