
بیجاپور، 15 جنوری (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے بیجاپور ضلع میں کل 52 نکسلیوں نے، جن پر 1.41 کروڑ روپے کا انعام تھا، جمعرات کو بیجاپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جتیندر یادو اور سی آر پی ایف حکام کے سامنے خودسپردگی کر دی۔ نکسلی تنظیم اب 2026 کی ٹارگٹ ڈیڈ لائن سے پہلے پوری طرح سکڑ رہی ہے۔
ہتھیار ڈالنے والے ان 52 نکسلی کیڈروں میں ڈی وی سی ایم-1، کمپنی نمبر 7 – 2 ممبران، پی پی سی ایم-3، اے سی ایم-10، ڈویڑن اور بیورو پارٹی کے ممبران-8، پلاٹون اور ایریا کمیٹی پارٹی کے ممبران-9، ملیشیا پلاٹون کمانڈر-3، ملیشیا پلاٹون ڈپٹی کمانڈر-1، ملیشیا پلاٹون کے ڈپٹی کمانڈر-1، ملیشیا پلاٹون کے ممبران، سی ایم اے/1 ایم ایس پی ایل اور جنتا سرکارکے مختلف آر پی سی کے صدر - 11 نکسل کیڈر جنہوں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر سماج کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیجاپور کے ایس پی جتیندر یادو نے آج کہا کہ سی آر پی ایف اور سیکورٹی فورسز کی کوششوں سے 52 نکسلائیٹ مرکزی دھارے میں واپس آئے ہیں۔ ان میں 21 خواتین کیڈر اور 31 مرد کیڈر شامل ہیں جن پر 1.41 کروڑ روپے کا انعام تھا، جنہوں نے مسلح اور پرتشدد نظریہ سے خود کو دور کیا اور امن اور ترقی کا راستہ اختیار کیا۔ ان میں اعلیٰ درجے کے نکسلی بھی شامل ہیں۔ یہ کامیابی سرکاری اسکیموں اور سیکورٹی فورسز کے ذریعہ چلائی گئی مسلسل نکسل مخالف مہم کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیجاپور ضلع میں یکم جنوری 2024 سے اب تک کل 824 نکسلائیٹ مرکزی دھارے میں واپس آئے ہیں، 1,126 نکسلائیٹس کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مختلف انکاو¿نٹر میں 223 نکسلائیٹس مارے گئے ہیں۔ بحالی کے عمل کے ایک حصے کے طور پر، ہر نکسلی کیڈر کو ترغیب کے طور پر 50,000 روپے کی فوری مالی مدد فراہم کی گئی۔ سماج میں ہتھیار ڈالنے والے 52 نکسلی کیڈروں کی بازآبادکاری اور دوبارہ انضمام کے لیے ضروری قانونی عمل جاری ہے۔
بیجاپور کے ایس پی نے نکسلیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گمراہ کن اور پرتشدد نظریات کو ترک کریں اور بے خوف ہوکر سماج کے مرکزی دھارے میں واپس آجائیں۔ حکومت کی پونا مارگیم پالیسی ان کے مستقبل کو محفوظ، باوقار اور خود انحصاری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی