
نیویارک،14جنوری(ہ س)۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کو نشانہ بنانے والے قوانین کو منسوخ نہ کیا اور قبضے میں لیے گئے اثاثے اور جائیدادیں واپس نہ کیں، تو اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے نام 8 جنوری کے ایک خط میں گوتریس نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ان اقدامات پر خاموش نہیں رہ سکتا جو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی ذمے داریوں سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کو بلا تاخیر واپس لیا جانا چاہیے۔اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اکتوبر 2024 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت انروا ایجنسی کے اسرائیل میں کام کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی اور حکام کو اس کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ ماہ اس قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ انروا کی تنصیبات کو بجلی اور پانی کی فراہمی بند کی جا سکے۔
علاوہ ازیں اسرائیلی حکام نے گذشتہ ماہ مشرقی بیت المقدس میں انروا کے دفاتر پر قبضہ بھی کر لیا تھا۔ اقوام متحدہ مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقہ تسلیم کرتی ہے، جبکہ اسرائیل پورے شہر کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے منگل کے روز نیتن یاہو کے نام گوتریس کے خط کو مسترد کر دیا۔ ڈینن کا کہنا تھا کہ ہم سکریٹری جنرل کی دھمکیوں سے پریشان نہیں ہیں۔ انروا کے عملے کے دہشت گردی میں ناقابلِ تردید طور پر ملوث ہونے کے معاملے کو حل کرنے کے بجائے، سکریٹری جنرل اسرائیل کو دھمکیاں دینے کا انتخاب کر رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کا دفاع نہیں بلکہ دہشت گردی میں ملوث ایک تنظیم کا دفاع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan