
واشنگٹن،14جنوری( ہ س)۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کی پھانسی پر عمل کیا تو غیر متعین مگر انتہائی سخت کارروائی کی جائے گی جبکہ دوسری طرف تہران نے امریکی انتباہ کو ’فوجی مداخلت کا بہانہ‘ قرار دیا ہے۔ایرانی حکام نے اصرار کیا ہے کہ انہوں نے مسلسل کئی راتوں تک وسیع ملک گیر مظاہروں کے بعد کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔
حقوق کے گروپوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر رہی ہے اور انٹرنیٹ کی بندش جسے اب پانچ دن گذر چکے ہیں، کی مدد سے کریک ڈاو¿ن کی سطح چھپائی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر اے ایف پی کے تصدیق شدہ مقامات والی نئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ایرانی دارالحکومت کے بالکل جنوب میں کہریزک مردہ خانے میں سیاہ تھیلوں میں لپٹی ہوئی لاشوں کی قطاریں لگی تھیں اور پریشان حال رشتہ دار اپنے عزیزوں کو تلاش کر رہے تھے۔ایرانی حکام نے حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کردہ بعض مشتبہ افراد کے خلاف ’محاربہ‘یا ’خدا کے خلاف جنگ‘ کے بڑے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ اسی کے جواب میں امریکی صدر نے کہا، اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بہت سخت کارروائی کریں گے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے ایکس اکاو¿نٹ پر کہا کہ 26 سالہ احتجاجی عرفان سلطانی کو بدھ کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔
عرفان پہلا احتجاجی ہے جسے موت کی سزا سنائی گئی ہے لیکن وہ آخری نہیں ہو گا، محکمہ خارجہ نے کہا اور بتایا کہ 10,600 سے زیادہ ایرانیوں کو گرفتار کیا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ سلطانی سمیت تمام افراد کی پھانسیوں کو فوری طور پر روک دے۔ٹرمپ نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ ’احتجاج کرتے رہیں‘اور مزید کہا:میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک کے لیے منسوخ کر دی ہیں جب تک کہ مظاہرین کا بلاجواز قتل بند نہ ہو جائے۔ مدد بھیجی جاری ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کن ملاقاتوں کا ذکر کر رہے تھے یا مدد کی نوعیت کیا ہو گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan